اے آئی ٹیکنالوجی جلد انسانی ذہانت کو پیچھے چھوڑ دے گی: مسک کی پیشگوئی
اے آئی ٹیکنالوجی (مصنوعی ذہانت) بہت جلد انسانی ذہانت کو پیچھے چھوڑ دے گی، ایلون مسک کی نئی پیشگوئی توجہ کا مرکز بن گئی۔

دنیا کے معروف ارب پتی کاروباری شخصیت، ٹیسلا اور ایکس اے آئی کے چیف ایگزیکٹو آفیسر ایلون مسک نے پیش گوئی کی ہے کہ مصنوعی ذہانت (اے آئی) آئندہ چار سے پانچ برسوں میں تمام انسانوں کی مجموعی ذہانت سے بھی زیادہ صلاحیت حاصل کر لے گی۔
یہ بات انہوں نے ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر ایک بحث کے دوران کہی، یہ بحث معروف کاروباری شخصیت اور مصنف پیٹر ایچ ڈیامنڈس کے اس مؤقف کے جواب میں سامنے آئی تھی جس میں انہوں نے کہا تھا کہ انسانی ترقی صرف ذہانت نہیں بلکہ وسائل اور جدید ٹیکنالوجی تک رسائی سے بھی مشروط ہے۔
اس پر ردعمل دیتے ہوئے ایلون مسک نے لکھا کہ امکان ہے کہ مصنوعی ذہانت اگلے چار یا پانچ سال میں تمام انسانوں کی مجموعی ذہانت سے تجاوز کر جائے گی۔
ایلون مسک طویل عرصے سے مصنوعی ذہانت کے مستقبل کے حوالے سے اظہارِ خیال کرتے رہے ہیں۔
وہ ایک جانب اے آئی کے ممکنہ خطرات سے خبردار کرتے ہیں جبکہ دوسری جانب اسے انسانی تاریخ کی سب سے انقلابی ٹیکنالوجیز میں سے ایک قرار دیتے ہیں۔
انہوں نے ایک اور پیغام میں اے آئی اور روبوٹکس کے ذریعے حیرت انگیز دور کی پیش گوئی کی، جس میں اشیاء اور خدمات کی پیداوار میں نمایاں اضافہ اور لاگت میں بڑی کمی واقع ہو سکتی ہے۔
ایلون مسک کے مطابق اس وژن کا اہم حصہ ٹیسلا کا ہیومنائیڈ روبوٹ پروگرام ’آپٹیمس‘ ہے، جو مستقبل میں فیکٹریوں، لاجسٹکس، تعمیرات اور دیگر شعبوں میں دہرائے جانے والے، مشکل اور خطرناک کام انجام دے سکے گا۔
دوسری جانب ماہرین کی ایک بڑی تعداد ایلون مسک کی اس پیش گوئی سے مکمل اتفاق نہیں کرتی، ان کے مطابق اگرچہ مصنوعی ذہانت اور روبوٹکس میں تیزی سے ترقی ہو رہی ہے، لیکن انسانی سطح یا اس سے برتر ذہانت حاصل کرنے کیلئے ابھی کئی پیچیدہ سائنسی اور تکنیکی رکاوٹیں موجود ہیں۔
