وی پی این کا استعمال کیا واقعی غیر شرعی ہے ؟ بحث طول پکڑ گئی
لاہور: پاکستان میں وی پی این کے استعمال پر بحث بڑھتی جارہی ہے ۔ اسلامی نظریاتی کونسل کے فتوے کے بعد حکومت اور دیگر سیاسی شخصیات بھی میدان میں اتر آئی ہیں ۔ اسلامی نظریاتی کونسل نے فتویٰ جاری کیا تھاکہ وی پی این کا استعمال غیر شرعی ہے اور اس حوالے سے اس کا استعمال بھی غلط ہے ۔ وزارت داخلہ نے پی ٹی اے کو مراسلہ جاری کیا تھا جس کے بعد پاکستان ٹیلی کمیونکیشن اتھارٹی نے کئی وی پی این بلاک کر دیئے ۔
فتوے کے بعد مولانا طارق جمیل نے اپنے بیان میں کہا کہ یہ فتویٰ بالکل غلط ہے، اگر وی پی این کا استعمال حرام ہے تو پھر موبائل فون کا استعمال بھی حرام ہے۔ اسی دوران چیئرمین اسلامی نظریاتی کونسل علامہ راغب نعیمی کا ردعمل بھی سامنے آگیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ وی پی این کا استعمال اکثر غیر اخلاقی امور میں ہو رہا ہے۔ اگر وی پی این کو رجسٹر کر دیتے ہیں اور مثبت تنقید کرتے ہیں تو اس کے استعمال میں کوئی قباحت نہیں رجسٹرڈ یا غیر رجسٹرڈ وی پی این سے غیر مہذب مواد اور غلط پروپیگنڈا کیا جائے تو غیر شرعی ہوگا۔
وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثنا اللہ نے کہا کہ وی پی این کا معاملہ اسلامی نظریاتی کونسل کا بنتا ہی نہیں ۔ چیئرمین اسلامی نظریاتی کونسل نے خواہ مخوا اس معاملے پر اپنی رائے دے کر نئی بحث چھیڑ دی ہے ۔ انہوں نے عوام کو مخاطب کرتےہوئے کہا کہ دعوے سے کہتا ہوں کہ وی پی این کا استعمال غیر شرعی نہیں۔
