خاص خبریں

مولانا مان گئے ، پی ٹی آئی روٹھ گئی ،پھر بھی 26آئینی ترمیم منظور

قومی اسمبلی نے 26 ویں آئینی ترمیم کی منظوری دے دی۔ آئینی ترمیم کے حق میں 225 ارکان نے ووٹ دیا جبکہ مخالفت میں 12 ووٹ ڈالے گئے۔ سینیٹ سے منظور کردہ صورت میں زیر غور لانے کا 26 ویں آئینی ترمیم کا بل وزیر قانون و پارلیمانی امور اعظم نذیر تارڑ نے قومی اسمبلی میں پیش کیا۔ سپیکر قومی اسمبلی نے آئینی ترمیم کی 27 شقوں پر ایوان سے منظوری حاصل کی۔ شق وار منظوری کا عمل مکمل ہونے کے بعد سپیکر نے 26 ویں آئینی ترمیم پر ووٹنگ کا عمل شروع کیا۔ پانچ منٹ تک مسلسل گھنٹیاں بجائی گئیں تاکہ جو ارکان لابیز میں ہیں وہ ایوان میں آ جائیں۔ جس کے بعد لابیز بند کر دی گئیں اور ہاﺅس کو دو حصوں میں تقسیم کر دیا گیا۔ ترمیم کے حق والے ارکان سپیکر کی دائیں جانب کی لابی اور مخالفت والے ارکان سپیکر کی بائیں جانب گئے۔ ہر رکن لابی میں جاتے وقت وہاں رکھے رجسٹر میں اپنے نام کے سامنے دستخط کئے۔ اس کے بعد دو منٹ تک دوبارہ گھنٹیاں بجائی گئیں تاکہ ارکان اسمبلی اپنی نشستوں پر واپس آ جائیں۔

ارکان اسمبلی کی نشستوں پر آنے کے بعد سپیکر قومی اسمبلی نے حتمی نتائج کا اعلان کیا۔26 ویں آئینی ترمیم کے حق میں 225 جبکہ مخالفت میں 12 ووٹ آئے۔آئینی ترمیم کی دو تہائی اکثریت سے منظوری کے لئے 224 ارکان کی حمایت درکار تھی، 225 ارکان نے آئینی ترامیم کے حق میں ووٹ دیا۔ آخری مرحلے میں پی ٹی آئی کے ارکان نے منظوری کے عمل کا بائیکاٹ کر دیا

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *