خاص خبریں

وہ سنہری دور جب جسٹس یحییٰ آفریدی ، جسٹس منصور علی شاہ اور جسٹس اطہر من اللہ ایک لا فرم میں پارٹنر تھے  

اسلام آباد : صدر مملکت نےجسٹس یحییٰ آفریدی کی بطور چیف جسٹس تعیناتی کی منظوری دے دی ۔ یہتعیناتی 26 اکتوبر سے 3 سال کے لیےہے۔ اس حوالے سے پارلیمانی کمیٹی نے دو تہائی اکثریت سےجسٹس یحییٰ آفریدی کو چیف جسٹس مقرر کرنے کی منظوری دی ۔ اس سے قبل پی ٹی آئی نے اجلاس میں شامل ہونے سے انکار کیا تھا۔

جسٹس یحییٰ آفریدی کا تعلق ڈیرہ اسماعیل خان سے ہے۔ انہوں نے اپنی ابتدائی تعلیم ایچی سن کالج لاہورجبکہ اعلٰی تعلیم کیمبرج یونیورسٹی سے حاصل کی۔ 1990 میں وکالت کا آغاز کرنے والے جسٹس یحییٰ آفریدی خیبر پختونخوا کے اسسٹنٹ ایڈووکیٹ جنرل بھی رہے۔ 1997 میں یحییٰ آفریدی، شاہ اور من اللہ نامی ایک قانونی فرم کا حصہ تھے۔ اس فرم میں باقی دو پارٹنرز جسٹس منصور علی شاہ اور جسٹس اطہر من اللہ تھے۔

پریکٹس کے دوران ہی انہیں 2010 میں پشاور ہائی کورٹ کا جج لگایا گیا۔ وہ فاٹا سے تعلق رکھنے والے پہلے جج تھے جو پشاور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس بھی بنے، تاہم 2018 میں وہ سپریم کورٹ آئے ۔جسٹس یحییٰ آفریدی نے اعلیٰ عدالت  میں فرائض نبھاتے ہوئے کئی اہم فیصلے کیے۔   نامزد چیف جسٹس کی عمر 59برس ہے۔ نئی آئینی ترمیم کے بعد وہ تین سال بعد 2027 میں ریٹائر ہو جائیں گے ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *