پاکستانتازہ ترین

قومی اسمبلی میں فنانس بل 27-2026 کثرتِ رائے سے منظور، اپوزیشن کی ترامیم مسترد

 قومی اسمبلی میں فنانس بل 27-2026 کثرتِ رائے سے منظور کر لیا گیا، اپوزیشن کی ترامیم مسترد کر دی گئیں۔

سپیکر سردار ایاز صادق کی زیر صدارت قومی اسمبلی کا اجلاس ہوا، جس میں فنانس بل کی شق وار منظوری دی گئی۔

عالیہ کامران، نعیمہ کشور اور شاہدہ اختر علی کی ترامیم مسترد کر دی گئیں جبکہ علی قاسم گیلانی نے اپنی ترمیم واپس لے لی۔

اجلاس کے آغاز پر وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے فنانس بل 2026 منظوری کے لئے پیش کیا، وزیر خزانہ نے رکن قومی اسمبلی عالیہ کامران کی فنانس بل میں ترامیم کی مخالفت کر دی، سپیکر نے اپوزیشن ارکان کو ترامیم پر مختصر بحث کی اجازت دے دی۔

فنانس بل میں پیش کی گئی ترامیم پر بحث کرتے ہوئے عالیہ کامران نے کہا کہ یہ بجٹ بند کمروں میں بیٹھ کر بنایا گیا ہے اس میں عوام کی رائے شامل نہیں، پٹرولیم لیوی کو جگا ٹیکس کہا گیا تھا، میری ترمیم ہے کہ پٹرولیم لیوی 50 روپے سے زیادہ نہیں لی جائے گی۔

ان کا کہنا تھا کہ کاربن لیوی کو 5 روپے نہیں ہونا چاہیے، اڑھائی روپے ہونی چاہیے، سیلز ٹیکس کو 18 فیصد سے کم کر کے 10 فیصد کریں، اشرافیہ پر ٹیکس لگائیں۔

قومی اسمبلی کا اجلاس فنانس بل کی منظوری کے بعد کل صبح گیارہ بجے تک ملتوی کر دیا گیا۔

ذرائع کے مطابق فنانس بل 27-2026 کے مطابق یکم جولائی سے 2 ہزار سے 3 ہزار سی سی تک کی درآمدی گاڑیوں پر86 فیصدڈیوٹی ہوگی جب کہ 3001 سی سی کی امپورٹڈ گاڑیوں پر 92 فیصد ڈیوٹی عائد ہوگی۔

اس کے علاوہ 1800سی سی گاڑیوں پرڈیوٹیز اور ٹیکس 156فیصد سے کم کر کے 74 فیصد، 1500سی سی سے بڑی گاڑیوں پرڈیوٹی شرح 91 فیصد سےکم کرکے 57 فیصد، 1000 سے 1500 سی سی امپورٹڈ گاڑیوں پر ڈیوٹی اورٹیکسز 76 فیصدسے کم کرکے 52 فیصد جب کہ 850 سی سی کی امپورٹڈگاڑیوں پرڈیوٹی 66 فیصد سے کم کرکے 42 فیصد تک لائی جارہی ہے۔

فنانس بل کے مطابق نئی آٹوپالیسی میں 1800سی سی تک کی گاڑیوں پر اسپیشل ایکسائز ڈیوٹی عائد نہیں کی جارہی، بڑی الیکٹرک گاڑیوں کی درآمد پر 30 سے40 فیصد کسٹم ڈیوٹی عائد کی جارہی ہے۔

فنانس بل کے مطابق یکم جولائی سے 75ہزارڈالر مالیت تک کی درآمدی ای وی گاڑیوں پر30 فیصد اور ایک لاکھ 10ہزار ڈالر سےزائد مالیت کی ای وی گاڑیوں پر40فیصد کسٹم ڈیوٹی ہوگی۔

اس کے علاوہ یکم جولائی سے وفاق میں 1000سی سی تک گاڑی پر ون ٹائم 10ہزارروپے فکس ٹیکس عائدہوگا، 2010 سے پہلے کےماڈل کی 1000سی سی تک گاڑیوں پر ٹوکن ٹیکس 20 ہزار اور 1001سے 1300سی سی تک گاڑیوں پرٹوٹل انوائس کے 0.3 فیصد ٹوکن ٹیکس ہوگا جب کہ یکم جولائی سے وفاق میں ٹوکن ٹیکس ٹوٹل انوائس کے 0.25 فیصد کے برابر کیا جائے گا۔

فنانس بل کے مطابق یکم جولائی سے وفاق میں 2010 سے پہلےکے ماڈلز کی گاڑیوں پر 2500روپے ٹوکن ٹیکس عائد ہوگا اور 2010 کے بعد کےماڈل کی گاڑیوں پر 6200 روپے ٹوکن ٹیکس عائد ہوگا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *