آس پاسخاص خبریں

ایران سے معاہدے میں لبنان جنگ بندی بھی شامل ہوگی: امریکی عہدے دار

ایک سینیئر امریکی عہدے دار نے بتایا کہ مشرق وسطیٰ کی جنگ ختم کرنے کے لیے امریکہ اور ایران کے درمیان مجوزہ معاہدے میں لبنان بھی شامل ہو گا، جہاں اسرائیل حزب اللہ پر مسلسل حملے کر رہا ہے۔

امریکی انتظامیہ کے سینیئر اہلکار نے صحافیوں کو بتایا کہ اس میں لبنان شامل ہے، اس میں ایران شامل ہے، اس میں خلیج کے ساحلی ممالک شامل ہیں اور اس میں اسرائیل شامل ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ امریکا کو آنے والے دنوں میں ایران کے ساتھ امن معاہدے پر دستخط ہونے کا 80 سے 85 فیصد یقین ہے، معاہدے میں پابندیوں میں نمایاں نرمی اور ایرانی اثاثوں کو غیر منجمد کرنا شامل ہو گا، جس کے بدلے میں ایران اپنا ایٹمی پروگرام ختم کرنے اور اپنا ایٹمی مواد حوالے کرنے پر رضامند ہو گا۔

سینیئر عہدے دار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ میں اس معاہدے کے بارے میں بہت پرامید ہوں، میرا خیال ہے کہ صدر ایک بہت اچھے مقام پر پہنچ گئے ہیں۔

امریکی اہلکار نے کہا کہ معاہدے پر دستخط کے لیے کسی جگہ اور تاریخ کا ابھی فیصلہ نہیں ہوا، تاہم یورپ کا امکان موجود ہے، جس کی ٹرمپ نے تجویز دی تھی، ہم ابھی اختتامی لائن پر نہیں پہنچے، لیکن ہم بہت قریب ہیں۔

اہلکار نے مزید کہا کہ ہمیں توقع ہے کہ ہم اگلے چند دن میں اس معاہدے پر دستخط کر دیں گے، میں آپ کو کوئی حتمی تاریخ نہیں دے سکتا، اگر مجھے آپ کو یہ یقین دلانا ہوتا کہ ہم اس معاہدے پر دستخط کرنے جا رہے ہیں تو میں نے شاید آج صبح 75 فیصد کہا ہوتا، اب یہ شاید 80 سے 85 فیصد کے قریب ہے لیکن یہ 100 فیصد نہیں۔

امریکی عہدے دار نے کہا کہ معاہدے کی راہ اس وقت ہموار ہونا شروع ہوئی جب ایران نے اس وضاحت پر اتفاق کیا کہ اس کے افزودہ یورینیم کو کیسے ٹھکانے لگایا جائے گا، واشنگٹن کا یہ بھی خیال تھا کہ اہم آبنائے ہرمز پر ایران کا کنٹرول کمزور ہو گیا ہے۔

قبل ازیں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے امید ظاہر کی تھی کہ ایران کے ساتھ آج امن معاہدے پر دستخط ہوتے ہی آبنائے ہرمز سب کے لیے کھول دی جائے گی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *