ویتنامی کاروباری وفد کا لاہور چیمبرکا دورہ ، تجارت بڑھانے پر بات چیت
لاہور: ویتنام کے ایک اعلیٰ سطح کے کاروباری وفد نے لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کا دورہ کیا اور لاہور چیمبر کے صدر فہیم الرحمن سہگل سے ملاقات کی۔ لاہور چیمبر کے سینئر نائب صدر تنویر احمد شیخ، نائب صدر خرم لودھی اور ایگزیکٹو کمیٹی کے ارکان بھی اس موقع پر موجود تھے۔وفد کی قیادت ڈائریکٹر جنرل این پی ڈی ویتنام جوائنٹ اسٹاک کمپنی مس ٹران تھی لیوئن نے کی، جبکہ پاکستان میں ویتنام کے اعزازی قونصل رضوان فرید نے اس ملاقات میں موجود تھے۔صدر لاہور چیمبر فہیم الرحمن سہگل نے ویتنامی وفد کو خوش آمدید کہا اور رضوان فرید کا شکریہ ادا کیا کہ انہوں نے اس اہم ملاقات کو ممکن بنایا۔ انہوں نے کہا کہ لاہور نہ صرف تاریخ، فن اور ثقافت کا مرکز ہے بلکہ یہ تیزی سے ترقی کرتا ہوا صنعتی اور تجارتی شہر بھی ہے۔
صدر لاہور چیمبر نے کہا کہ پاکستان اور ویتنام کے درمیان 1972 سے مضبوط سفارتی تعلقات قائم ہیں اور دونوں ممالک گزشتہ 50 سال سے زائد عرصے سے تجارت اور معاشی تعاون میں ایک دوسرے کے شراکت دار ہیں۔ انہوں نے ویتنام کی شاندار معاشی ترقی کو سراہتے ہوئے کہا کہ عالمی بینک کے مطابق ویتنام کی جی ڈی پی 476 ارب ڈالر سے تجاوز کر چکی ہے، جبکہ اس کی برآمدات 519 ارب ڈالر اور درآمدات 382 ارب ڈالر ہیں۔
فہیم الرحمن سہگل نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان تجارت ابھی اپنی اصل صلاحیت سے بہت کم ہے۔ اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے مطابق 2024–25 میں پاکستان کی ویتنام کو برآمدات 226.6 ملین ڈالر جبکہ درآمدات 374 ملین ڈالر رہیں۔ انہوں نے کہا کہ بہتر مارکیٹ ایکسس اور کاروباری روابط (B2B) کو فروغ دے کر دونوں ممالک آسانی سے تین ارب ڈالر تک تجارتی حجم بڑھا سکتے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ ریڈی میڈ گارمنٹس، کاٹن یارن، ڈیری مصنوعات، چائے، فوڈ آئٹمز، زراعت، پیکیجنگ اور سیاحت جیسے شعبوں میں دونوں ممالک کے درمیان تعاون کے وسیع مواقع موجود ہیں۔
