آس پاسپاکستان

جنرل اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کرنے والی شمع جونیجو آخر ہیں کون ؟

نیویارک : پاکستانی وفد کے ساتھ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 80 ویں اجلاس میں شرکت کرنے والی شمع جونیجو کون ہیں کالم نگار اور سوشل میڈیا ایکٹوسٹ شمع جونیجو کو پاکستانی وفد میں شامل کرنے پر حکومت کو سوشل میڈیا پر تنقید کا سامنا ہے شمع جونیج کا تعلق سندھ کےشہر کوٹری سے ہے ۔ انہوں نے 1991 سے 1993 تک ریڈیو پاکستان میں نیوز کاسٹر کے طور پر کام کیا جون 1993 میں انہوں نے سینئر پولیس افسر جمشید قاضی سے شادی کی، جو اس وقت اقوام متحدہ میں جوبا میں چیف آف آپریشنز برائے سیکیورٹی کی حیثیت سے خدمات انجام دے رہے ہیں۔ کالم نگار اور سوشل میڈیا ایکٹوسٹ شمع جونیجو کو پاکستانی وفد میں شامل کرنے پر حکومت کو سوشل میڈیا پر تنقید کا سامنا ہے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں پاکستان وفد کا حصہ بنے والی شمع جونیجو کی پاکستانی وزیر دفاع کے ساتھ تصویر سامنے آئی ،،، سوشل میڈیا پر ان کی پوسٹ کو لے کر الزام لگایا جا رہا ہے کہ شمع جونیجو پرو اسرائیل ہیں  اور چاہتی ہیں کہ پاکستان جلد از جلد اسرائیل کو تسلیم کرلے ،،،

شمع جونیجو اقوام متحدہ اجلاس میں کیسے پہنچی؟

یہ سوال کافی بڑا معمہ بنا ہوا

یہ بات سچ ہے کہ دفتر خارجہ کی بنائی لسٹ جس کی وزیراعظم نے منظوری دی تھی،،، اس میں شمع جونیجو کا نام شامل نہیں تھا۔

شمع کو شہبازشریف نے خود انوائٹ کرکے اپنے جہاز میں لے جانے کا بندوبست کیا اور نیویارک پہنچنے کے بعد پاکستانی مشن برائے اقوام متحدہ کو خصوصی آرڈر جاری کیا کہ شمع کا خصوصی پاس برائے صلاح کار یعنی ایڈوائزر تیار کروایا جائے تاکہ یہ ہمارے ساتھ اقوام متحدہ کے اجلاسوں میں شرکت کرسکیں۔ اس موقع پر وزیراعظم شہبازشریف بھی خاموش ہیں کیونکہ شمع کی اسرائیل نواز ٹویٹس وائرل ہوگئی ہیں۔ عوامی ردعمل کے ڈر سے دفتر خارجہ کی جانب سے شمع جونیجو سے لاتعلقی  کا اظہار کیا گیا جبکہ خواجہ آصف نے بھی ملبہ دفتر خارجہ پر ڈالتے ہوئے کہا کہ یہ دفتر خارجہ کی صوابدید ہے کہ کون ان کے پیچھے بیٹھتا ہے،،، دوسری جانب ڈاکٹر شمع جونیجو نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر طویل وضاحت جاری کی ہے۔

انہوں نے لکھا کہ میں پچھلے کئی ماہ سے پاکستان اور وزیراعظم کے لیے کام کر رہی تھی،
پاک بھارت جنگ کے دوران میرے پالیسی بریفس، ایڈوائس، اور پوائنٹس، سب کچھ ریکارڈ کا حصہ ہے اور محفوظ ہے‘

شمع جونیجو نے دعویٰ کیا کہ ’مجھے وزیراعظم نے اقوام متحدہ کی تقریر لکھنے کا ٹاسک دیا، اور خود وفد کا حصہ بنایا، میرا نام باقاعدہ مشیر کے طور پر شامل کیا گیا اور میرا سیکیورٹی پاس بھی اسی حوالے سے جاری کیا گیا ،،، شمع جونیجو کا مزید کہنا تھا کہ ’کلائیمیٹ کانفرنس میں وزیراعظم کے پیچھے میں اور اسحٰق ڈار ساتھ بیٹھے ہوئے تھے جن کی وزارت نے میرے بارے میں ٹویٹ کیا ہے کہ میں وفد کا حصہ نہیں تھی‘ شمع جونیجو نے سوال اٹھایا کہ ’اب خواجہ صاحب ایسے بیان کیوں دے رہے ہیں، اور کس ایجنڈے کے تحت اپنی حکومت کے ایک تاریخی دورے کو بدنام کررہے ہیں، وزیراعظم کو اُن سے پوچھنا چاہیے کیونکہ اُن کی اتھارٹی چیلنج ہوئی ہے، میری نہیں‘۔دفتر خارجہ نے وضاحت کی ہے کہ برطانیہ میں مقیم تجزیہ کار شمع جونیجو، جن پر ناقدین اسرائیل نواز خیالات رکھنے کا الزام لگاتے ہیں، اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں پاکستان کے وفد کا حصہ نہیں تھیں۔

یہ وضاحت اس وقت سامنے آئی جب سوشل میڈیا پر ان کی وہ تصاویر گردش کرنے لگیں جن میں شمع جونیجو کو وزیر دفاع خواجہ آصف کے پیچھے بیٹھے دیکھا گیا۔ ان مناظر کے بعد ماضی میں اسرائیل کو تسلیم کرنے سے متعلق ان کے مبینہ بیانات پر شدید تنقید شروع ہوگئی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *