ٹرمپ کے تازہ احسانات: تیل بھی ہمارا، آنسو بھی ہمارے
مال روڈتحریر: ہمایوں سلیم
امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دماغ میں جب جب پاکستان کا خیال آتا ہے ایسا لگتا ہے کہ یا تو پاکستان واقعی دنیا کی سب سے عظیم معیشت بننے والا ہے – یا پھر ٹرمپ صاحب کو روز رات کو پاکستان کے خواب آتے ہیں جہاں وہ خود مٹی کا تیل نکال رہے ہوتے ہیں اور عمران خان، نواز شریف، زرداری اور اسٹیبلشمنٹ ایک ہی کین میں جمع ہو کر اسے بوتل میں بھر رہے ہوتے ہیں۔کل ہی رضوان رضی سے ملاقات ہوئی میں نے ان سے پوچھا یہ ٹرمپ نے ہمارا ٹیرف بھارت کے مقابلے میں 6 فیصد کم کیا ہے اس کی کیا وجہ ہے انھوں نے نہایت سادگی سے جواب دیا چونکہ ہم نے بھارت کے 6 طیارے گرائے تھے اس لئے ٹرمپ نے انعام کے طور پر ہمارا ٹیرف 6 فیصد کم کر دیا۔ایثار رانا صاحب سے سوال کیا کہ کیا پاکستان میں واقعی تیل نکلنے والا ہے ٹرمپ نے دعوی کیا ہے تو انھوں نے بھی بہت معصومیت سے کہا کہ شاید وہ تیل کا ذکر کر رہے ہیں جو عوام کا ہمارے سیاستدان نکالتے ہیں ۔انھوں نے یہ بھی خدشہ ظاہر کیا کہ اس آڑ مین شاید وہ ہماری معدنیات پر قبضہ کرنا چاہتا ہے مجھے بھی اس بات میں وزن محسوس ہوا اور اب میں سوچ رہا ہوں کہ ٹرمپ نے ہم پر کیا کیا احسانات کئے ہیں لکھنے بیٹھا تو فہرست تو طویل تھی لیکن کچھ کا ذکر کر دیتا ہوں۔پہلا احسان: “ٹیرف میں نرمی “امریکی انتخابات کی گہما گہمی میں ٹرمپ نے ایک جلسے میں فرمایا کہ “پاکستان جیسے ممالک کے ساتھ ہمیں دوبارہ تجارتی تعلقات بہتر بنانے ہوں گے۔” اس کے بعد امریکہ نے پاکستان کے کچھ ایکسپورٹ آئٹمز پر ٹیرف نرم کر دیا۔ پاکستان میں فوری طور پر “احسان شناسی” کا طوفان آ گیا۔ سوشل میڈیا پر نئے نعرے بنے:”ٹرمپ آیا، بجٹ لایا!”لیکن سوال یہ ہے کہ جو ملک آٹا، چینی اور بجلی تک درآمد کرتا ہے، وہ امریکہ کو کیا ایکسپورٹ کرے گا؟ شاید “دعائیں”۔ اور وہ بھی اقساط میں۔دوسرا احسان: “پاکستان میں تیل “ٹرمپ نے بیان دیا کہ “پاکستان میں دنیا کا سب سے زیادہ ان ٹَیپڈ آئل ہے، ہم اسے نکال سکتے ہیں۔” اس بیان نے پاکستان میں دھماکے کر دییےایک عوامی خوشی کا، دوسرا حکومتی الجھن کا، اور تیسرا آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کے نرخناموں کا۔اب ہماری حکومت سوچ رہی ہے کہ اگر واقعی ہمارے پاس تیل ہے، تو اب تک ہم کنویں کیوں نہیں کھود رہے تھے؟ شاید ہمیں سیاستدانوں کی تقریروں کے نیچے کھدائی کرنی چاہیے، ہو سکتا ہے تیل وہاں سے نکل آئے – ویسے بھی وہاں کافی “پریشر” ہوتا ہے۔تیسرا احسان: “بھارت کو دھمکیاں “ٹرمپ نے حالیہ انٹرویو میں بھارت کی قیادت کو خبردار کیا کہ اگر وہ امریکہ کے مفادات کے خلاف گیا، تو اس کی معیشت کو “سبق سکھایا” جائے گا۔ یہ سن کر پاکستان میں جشن کا سماں ہو گیا۔ چند جذباتی یوٹیوبرز نے ویڈیوز بھی بنا ڈالیں کہ ٹرمپ نے پاکستان کا بدلہ مودی سے لے لیا ہے حالانکہ پاکستان تو اپنا بدلہ پہلے ہی خود لے چکا تھا۔:لیکن پاکستان میں کچھ یو ٹیوبرز نے فوراً بھارت سے جنگ کے خدشات ظاہر کر دیے۔ ان کا خیال تھا کہ مودی کو یہ ہضم نہین ہو گا اور وہ دوبارہ حملہ کر دے گا یعنی ایسا لگا جیسے ٹرمپ کے ایک جملے سے ہم نے 1965 اور 1971 کی شکستیں برابر کر لی ہوں۔چوتھا احسان: “عمران خان پر خاموشی – مگر معنی خیزٹرمپ نے جب اپنے دور صدارت میں عمران خان سے ملاقات کی تھی، تو انہیں “باصلاحیت لیڈر” کہا تھا۔ اب حالیہ دنوں میں جب عمران خان جیل میں ہیں اور ان پر “توہینِ عدالت، توہینِ آئین اور توہینِ دماغ” جیسے الزامات ہیں، ٹرمپ نے کوئی تبصرہ نہیں کیا – اور یہی خاموشی کئی سیاسی تجزیہ کاروں کو “نرم بیان” لگ رہی ہے۔کچھ تو یہ بھی کہہ بیٹھے تھے کہ “اگر ٹرمپ دوبارہ آ گیا، تو وہ عمران خان کو وائٹ ہاؤس سے فون کرے گا اور کہے گا: ‘میں نے بھی مقدمات جھیلے، تم بھی بھگتو’۔”پانچواں احسان: “پاکستانی عوام کو خواب دکھانا”سب سے بڑی نوازش، شاید، ٹرمپ کی جانب سے پاکستانی عوام کو دی جانے والی یہ امید ہے کہ ایک دن ہم بھی “ٹرمپ ٹاور لاہور” دیکھیں گے – جس کے نیچے پیزا ہٹ اور اوپر امریکہ کا آفس ہوگا۔ٹرمپ کی زبان سے نکلنے والا ہر لفظ ہمارے حکمرانوں کے لیے ایک پیغام بن جاتا ہے۔ ایک وزیر نے یہاں تک کہہ دیا:”اگر ٹرمپ پاکستان میں تیل نکالنے آ جائے تو ہم ان کا نام ’ڈونلڈ خان‘ رکھ دیں گے”۔چھٹا احسان: “سی پیک پر رشک”ٹرمپ نے گزشتہ دور میں سی پیک پر چینی اثر و رسوخ کو شک کی نظر سے دیکھا۔ اب جبکہ پاکستان چینی قرضوں کے نیچے ہانپ رہا ہے، تو ٹرمپ کا پرانا بیان ہمیں نئی دانائی لگتا ہے ایسا لگتا ہے جیسے”ٹرمپ کی محبت – چینی چائے جیسی ہو”پینے کو دل نہیں چاہتا، لیکن اگر مل جائے تو آدمی سوچتا ہے کہ “شاید اس میں کچھ خاص ہو”۔ ہمیں ہر بار امید ہوتی ہے کہ شاید اس بار ٹرمپ پاکستان کو واقعی کچھ دے گا – ویزا، تیل، ڈالر یا کم از کم امریکہ میں گول گپےکی دکان کا لائسنس۔لیکن ہر بار صرف بیانات ہی ملتے ہیں – وہ بھی اکثر ایسے جیسے کسی فلم کے ڈائیلاگ ہوں:ڈونلڈ ٹرمپ کی پاکستان سے محبت ایک ایسی فلم کی طرح ہے جس کا ٹریلر زبردست ہوتا ہے، لیکن پوری فلم کبھی ریلیز نہیں ہوتی۔ کبھی وہ ہمیں تیل نکال کر امیر بنانے کا وعدہ کرتے ہیں، کبھی بھارت کو ڈرا کر ہمیں بہادر بناتے ہیں، اور کبھی چپ رہ کر ہمیں خود کو عقل مند سمجھنے دیتے ہیں۔آخر میں صرف اتنا کہا جا سکتا ہے:”ٹرمپ صاحب! اگر واقعی آپ ہمیں خوش کرنا چاہتے ہیں، تو بس اتنا کر دیں:ہمیں صرف اتنا تیل دے دیں جتنا روزانہ ہمارے سیاستدان قوم کا نکالتے ہیں!””