آس پاس

موجودہ خطے کی بدلتی صورتحال میں پاک-امریکہ تعلقات

آجکل امریکہ اور پاکستان کے تعلقات جائزہ لیا جائے تو علم ہو گا کہ پاک امریکہ تعلقات اہم موڑ پر ہیں ان دونوں ممالک کے درمیان جو دوریاں تھیں آہستہ آہستہ مٹتی جا رہی ہیں ۔خاص کر فیلڈ مارشل عاصم منیر کی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات کے بعد امریکہ کا جھکائو بھارت کی بجائے پاکستان کی طرف نظر آ رہا ہے وہی ڈونلڈ ٹرمپ جو کل تک مودی کا یار تھا آج وہ یاری ماضی کے جھروکوں میں جاتی نظر آ رہی ہے۔پاکستان اور امریکہ کے تعلقات کی تاریخ کا جائزہ لیا جائے تو یہ ساٹھ سال سے زائد عرصے پر محیط ہے، جو سرد جنگ کے زمانے سے لے کر موجودہ عالمی جغرافیائی سیاسی منظرنامے تک کئی نشیب و فراز سے گزری ہے۔ یہ تعلقات کبھی گہرے اتحاد کی شکل میں رہے، جیسے کہ سرد جنگ کے دوران، اور کبھی بداعتمادی اور دوری کا شکار ہوئے، جیسے کہ 1990 کی دہائی میں پاکستان کے جوہری پروگرام پر پابندیوں کے بعد۔ موجودہ خطے کی بدلتی صورتحال، جو کہ افغانستان سے امریکی انخلا، چین کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ، بھارت-امریکہ تجارتی شراکت، اور مشرق وسطیٰ کی ابھرتی ہوئی سیاسی و معاشی حرکیات سے متاثر ہے، نے پاک-امریکہ تعلقات کو ایک نئے موڑ پر لاکھڑا کیا ہے۔ پاکستان اور امریکہ کے تعلقات 1947 میں پاکستان کے قیام کے ساتھ ہی شروع ہوگئے تھے، جب امریکہ نے پاکستان کو تسلیم کرنے والے پہلے ممالک میں سے ایک کے طور پر اپنا کردار ادا کیا۔ سرد جنگ کے دوران پاکستان امریکہ کا اہم اتحادی رہا، خاص طور پر 1950 کی دہائی میں جب پاکستان نے سیٹو اور سینٹو جیسے اتحادوں میں شمولیت اختیار کی۔ 1970 کی دہائی میں پاکستان نے چین اور امریکہ کے درمیان سفارتی تعلقات استوار کرنے میں کلیدی کردار ادا کیا۔ اسی طرح، 1980 کی دہائی میں سوویت یونین کے افغانستان پر قبضے کے بعد پاکستان نے امریکہ کے ساتھ مل کر مجاہدین کی حمایت کی، جس سے سوویت افواج کو شکست ہوئی۔ تاہم، سوویت انخلا کے بعد 1990 کی دہائی میں پاک-امریکہ تعلقات سرد مہری کا شکار ہوئے، جب امریکہ نے پاکستان کے جوہری پروگرام کی وجہ سے پابندیاں عائد کیں۔نائن الیون (9/11) کے واقعات نے پاک-امریکہ تعلقات کو ایک بار پھر اہمیت دی، جب پاکستان نے “دہشت گردی کے خلاف جنگ” میں امریکہ کا ساتھ دیا۔ اس شراکت نے پاکستان کو اربوں ڈالر کی فوجی اور معاشی امداد فراہم کی، لیکن اس کے ساتھ ہی پاکستان کو دہشت گردی اور عدم استحکام کا سامنا کرنا پڑا۔ 2011 میں ایبٹ آباد آپریشن نے تعلقات میں بداعتمادی کو عروج پر پہنچادیا، جب امریکہ نے پاکستان کو اعتماد میں لیے بغیر اسامہ بن لادن کے خلاف کارروائی کی۔ اس کے بعد سے تعلقات کبھی مکمل طور پر بحال نہ ہو سکے، لیکن حالیہ برسوں میں دونوں ممالک نے اپنے تعلقات کو نئے سرے سے ترتیب دینے کی کوشش کی جس کے خاطر خواہ نتائج نظر آ رہے ہیں ۔افغانستان سے امریکی انخلا اور طالبان کی واپسی: 2021 میں افغانستان سے امریکی فوج کے انخلا اور طالبان کی واپسی نے خطے کے جغرافیائی سیاسی منظرنامے کو بدل دیا۔ پاکستان، جو کہ افغانستان کا ہمسایہ ہے اور تاریخی طور پر وہاں اثر و رسوخ رکھتا ہے، اب ایک نازک پوزیشن میں ہے۔ امریکہ اب پاکستان سے توقع رکھتا ہے کہ وہ طالبان پر دباؤ ڈالے تاکہ وہ دہشت گرد گروہوں، جیسے کہ القاعدہ اور داعش، کے خلاف کارروائی کرے۔ تاہم، پاکستان کے لیے یہ ایک مشکل کام ہے، کیونکہ وہ اپنی سرحدوں پر استحکام چاہتا ہے اور طالبان کے ساتھ تعلقات کو مکمل طور پر خراب نہیں کرنا چاہتا۔چین کا بڑھتا ہوا اثر و رسوخ بھی پاک امریکہ تعلقات کی بہتری میں رکاوٹ بنتا نظر آیا اس کی وجہ شاید یہ ہے کہ امریکہ چین کو عالمی سطح پر اپنا بنیادی حریف سمجھتا ہے، اور پاکستان کی چین کے ساتھ گہری شراکت اسے امریکی پالیسی سازوں کے لیے ایک چیلنج بناتی ہے۔ تاہم، پاکستان نے بارہا اس بات پر زور دیا ہے کہ اس کے چین کے ساتھ تعلقات امریکہ کے ساتھ تعلقات کے متبادل نہیں ہیں، بلکہ وہ دونوں کے ساتھ متوازن تعلقات رکھنا چاہتا ہے۔مشرق وسطیٰ کی حرکیات: مشرق وسطیٰ میں ایران-امریکہ تناؤ اور سعودی عرب کے ساتھ امریکی تعلقات بھی پاک-امریکہ تعلقات پر اثر انداز ہوتے ہیں۔ پاکستان سعودی عرب کا قریبی اتحادی ہے، لیکن ایران کے ساتھ اس کی سرحد مشترکہ ہونے کی وجہ سے وہ ایک نازک توازن برقرار رکھنے کی کوشش کرتا ہے۔ امریکہ پاکستان سے توقع رکھتا ہے کہ وہ خطے میں اس کے مفادات کی حمایت کرے، لیکن پاکستان اپنی خودمختاری اور علاقائی استحکام کو ترجیح دیتا ہے۔پاکستان کے جب بھی امریکہ سے تعلقات خراب ہوئے اس میں بھارت کا بھرپور ہاتھ رہا ماہرین کا خیال ہے کہ اب بھی اگر پاک امریکہ تعلقات میں خرابی پیدا کرنے کے لئے بھارت آج بھی کوشاں ہے۔ معاشی طور پراگر دیکھا جائے تو امریکہ پاکستان کی سب سے بڑی برآمدی منڈی ہے، اور گزشتہ چند سالوں میں پاکستانی برآمدات میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔ 2023 میں پاکستانی برآمدات 6 ارب ڈالر سے تجاوز کر گئیں، جبکہ امریکی کمپنیوں نے پاکستان میں 120,000 سے زائد ملازمتیں فراہم کیں۔ اس کے علاوہ، فلبرائٹ پروگرام جیسے تعلیمی تبادلے اور “سبز اتحاد” جیسے ماحولیاتی اقدامات نے دونوں ممالک کے درمیان عوامی روابط کو مضبوط کیا ہے۔تاہم، پاک-امریکہ تعلقات اب بھی چیلنجز کا شکار ہیں۔ امریکی کانگریس کی 2024 میں منظور کردہ ایک قرارداد، جس میں پاکستان میں جمہوریت اور انسانی حقوق پر تشویش کا اظہار کیا گیا، نے پاکستانی حکام کی جانب سے سخت ردعمل کو جنم دیا۔ اس کے علاوہ، بعض امریکی پالیسی سازوں کا خیال ہے کہ پاکستان دہشت گردی کے خلاف جنگ میں “دوغلی پالیسی” اپناتا ہے، جو تعلقات میں بداعتمادی کا باعث بنتی ہے۔افغانستان میں طالبان کی واپسی کے بعد دہشت گردی کے خطرات ایک بار پھر بڑھ گئے ہیں۔ پاکستان اور امریکہ کے درمیان انسداد دہشت گردی کے لیے تعاون ناگزیر ہے، لیکن اس کے لیے اعتماد کی بحالی ضروری ہے۔پاکستان میں جو بھی حکومت آئی اس کی کوشش یہی رہی کہ اپنی خارجہ پالیسی میں چین اور امریکہ کے ساتھ توازن برقرار رکھا جائے۔ لیکن بعض اوقات اس میں کامیابی نہ ہوئی جسکے نتیجہ میں ایک کو منایا تو دوسرا روٹھ گیا ۔حالانکہ اگر دیکھا جائے تو پاک-امریکہ تعلقات خطے میں استحکام کے لیے اہم ہیں۔ ماہرین کے مطابق، دونوں ممالک کے درمیان تعاون سے نہ صرف علاقائی تنازعات، جیسے کہ کشمیر، کے حل میں مدد مل سکتی ہے، بلکہ یہ خطے کے اقتصادی مواقع سے فائدہ اٹھانے کا ذریعہ بھی بن سکتا ہے۔نتیجہپاک-امریکہ تعلقات خطے کی بدلتی صورتحال میں ایک اہم موڑ پر ہیں۔ اگرچہ تاریخی طور پر یہ تعلقات اتار چڑھاؤ کا شکار رہے ہیں، لیکن موجودہ حالات میں دونوں ممالک کے پاس ایک دوسرے کے ساتھ تعاون بڑھانے کے مواقع موجود ہیں۔ معاشی شراکت، ماحولیاتی تعاون، اور انسداد دہشت گردی جیسے شعبوں میں مشترکہ مفادات دونوں ممالک کو قریب لا سکتے ہیں۔ تاہم، اس کے لیے بداعتمادی کو دور کرنا اور ایک دوسرے کے مفادات کا احترام کرنا ضروری ہے۔ پاکستان کو اپنی جغرافیائی اور تجارتی اہمیت کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ایک متوازن خارجہ پالیسی اپنانا ہوگی، جو نہ صرف خطے میں استحکام لائے بلکہ اس کی معاشی ترقی کو بھی فروغ دے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *