پاکستانکھیل

چلو چلو جرمنی چلو۔۔ ویزے کے چکرمیں سب “سپورٹس آفیشل” قرار؟

لاہور ( حیدر رانا )پاکستان اسپورٹس بورڈ کی جانب سے ایک بار پھر ایک ایسا قدم اٹھایا گیا ہے جو نہ صرف میرٹ کے منہ پر طمانچہ ہے بلکہ قومی وقار کے ساتھ ایک کھلا مذاق بھی۔ جرمنی میں ہونے والے مبینہ انٹرنیشنل اسپورٹس ایونٹ کے نام پر جس طریقے سے “منتخب” ٹیم تیار کی گئی ہے، وہ کسی بھی ذی شعور پاکستانی کے لیے لمحۂ فکریہ ہے۔سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آخر وہ کون سی بنیادیں تھیں جن پر پاکستان اسپورٹس بورڈ نے 17 افراد پر مشتمل آفیشل ٹیم تشکیل دی؟ جب ماضی کے انٹرنیشنل اسپورٹس فیسٹیولز کی بات کی جائے تو اس سطح پر آفیشل ٹیم میں شامل افراد کی تعداد نہایت محدود رہی ہے، کیونکہ اسپورٹس میں کھلاڑی مرکزی حیثیت رکھتے ہیں، نہ کہ افسران۔

مزید حیرت کی بات یہ ہے کہ اس ٹیم کی سربراہی کسی سینئر کوچ یا کھلاڑی کے بجائے جاوید علی میمن جیسے شخص کو دی گئی ہے جو بورڈ میں آئی ٹی ہیڈ کی حیثیت رکھتے ہیں! کیا آئی ٹی افسر کھیلوں کی نمائندگی کرے گا؟ کیا یہی میرٹ کا معیار ہے؟

جاوید میمن پر یہ سنگین الزام ہے کہ انہوں نے خود ساختہ ٹیم تشکیل دی، جن میں زیادہ تر نوجوان ایسے ہیں جن کا نہ کوئی اسپورٹس ریکارڈ ہے، نہ کوئی قومی سطح کی شناخت۔ انہیں صرف “سفارشات” اور “اپروچ” کی بنیاد پر منتخب کیا گیا۔ دوسری جانب وہ نوجوان کھلاڑی، جو قومی اور بین الاقوامی سطح پر گولڈ میڈلسٹ رہے، انہیں نظر انداز کر کے اندھیر نگری کا بازار لگا دیا گیا ہے۔

یہ تمام صورتحال اس وقت مزید افسوسناک بن جاتی ہے جب اعلیٰ حکام اس پوری نام نہاد آفیشل ٹیم کا دفاع کرتے نظر آتے ہیں۔ اگر کھیل کو سفارتی دھندے میں بدلا جا رہا ہے تو یہ عوام کے ساتھ دھوکہ ہے۔ عوام کا پیسہ، ادارے کی ساکھ اور نوجوان کھلاڑیوں کا مستقبل – سب کچھ داؤ پر لگایا جا رہا ہے۔

کیا اس ملک میں میرٹ دفن ہو چکا ہے؟ کیا ایک آئی ٹی ہیڈ کو کھیلوں کی نمائندگی کا حق اس لیے دے دیا گیا کہ وہ اندرونی ساز باز میں ماہر ہے؟ اور اگر یہی طریقہ کار رہا تو کل کو شاید کوئی آفس بوائے بھی اولمپک ٹیم کا حصہ بنا دیا جائے گا!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *