آپ کو اب خیال آیاعمران خان کے ریمانڈ کا ؟ سپریم کورٹ کا پنجاب حکومت سے سوال
اسلام آباد : سپریم کورٹ نے پنجاب حکومت کی جانب سے بانی پی ٹی آئی کے جسمانی ریمانڈ کی درخواست پرفیصلہ دینے سے انکار کرتے ہوئے اپیلیں نمٹا دیں ۔
سپریم کورٹ میں عمران خان کے جسمانی ریمانڈ کے لیےدائرپنجاب حکومت کی اپیلوں پر سماعت ہوئی ۔ پراسکیوٹرذوالفقار نقوی نےعدالت سے کہا کہ ملزم کے فوٹو گرامیٹک، پولی گرافک اور وائس میچنگ ٹیسٹ کرانے ہیں۔ دوران سماعت جسٹس ہاشم کاکڑ نے کہا کہ درخواست میں استدعا ٹیسٹ کرانے کی نہیں جسمانی ریمانڈ کی تھی ۔۔ ٹرائل کورٹ سے اجازت لے کر ٹیسٹ کروالیں۔ بانی پی ٹی آئی کے وکلا درخواست دائر ہونے پر مخالفت کرنے کا حق رکھتے ہیں، ملزم کی گرفتاری کو ڈیڑھ سال گزرچکا، ڈیڑھ سال بعد جسمانی ریمانڈ کیوں یاد آیا ؟ اب تو جسمانی ریمانڈ کاسوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔اسپیشل پراسیکیوٹر نےکہا کہ ملزم نے تعاون نہیں کیا، اس پر جسٹس ہاشم کاکڑ نے کہا جیل میں زیرحراست ملزم سے مزید کیسا تعاون چاہیے؟ میرا ہی ایک فیصلہ ہےکہ ایک ہزار سے زائد ضمنی چالان بھی پیش ہوسکتے ہیں۔جسٹس کاکڑ نے کہا 5 دن پہلے ایک فوجداری کیس سناجس میں ایک نامزد ملزم 7سال تک ڈیتھ سیل میں رہا جسے باعزت بری کیا گیا۔
