عالمی خبریں

خاتون کھلاڑی کا جبری بوسہ لینے کا کیس، دو سال بعد عدالت نے فیصلہ سنا دیا

میڈرڈ: اسپین کی عدالت نے سابق فٹبال فیڈریشن کے سربراہ لوئس روبیالیس کو خاتون کھلاڑی جینی ہرموسو کو زبردستی بوسہ دینے کے جرم میں 10,800 یورو جرمانے کی سزا سنا دی مگر انہیں جبری طور پر جرم کے مرتکب ہونے کے الزام سے کلئیر کر دیا۔ ہائی کورٹ نے لوئس روبیالیس کو جنسی حملے کا مجرم قرار دیا، لیکن انہیں قید کی سزا نہیں دی ۔  عدالت نے یہ بھی حکم دیا کہ وہ ایک سال تک جینی ہرموسو سے بات نہیں کر سکتے  اور اگر ایسا کیا کہ تو قانون حرکت میں آئے گا۔ یہ واقعہ ورلڈ کپ 2023 کے فائنل کے بعد پیش آیا، جب اسپین کی جیت کے بعد روبیالیس نے اسٹیج پر جینی ہرموسو کے ساتھ بوس و کنار کیا ۔  اس واقعے کے بعد انہیں شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑا اور معاملہ عدالت تک پہنچ گیا۔34 سالہ جینی ہرموسو نے عدالت میں کہا کہ یہ بوسہ ان کی مرضی کے خلاف تھا اور اس حرکت پر انہیں بے عزتی محسوس ہوئی ۔ ساتھ ہی سوشل میڈیا پر ہونے والی ٹرولنگ کی وجہ سے انہیں بھی تنقید برداشت کرنا پڑی ۔

عدالت میں ان کے ساتھی کھلاڑیوں نے بھی گواہی دی کہ وہ واقعے کے بعد روئی تھیں اور خود کو مجبور محسوس کر رہی تھیں۔47 سالہ روبیالیس نے عدالت میں مؤقف اختیار کیا کہ خاتون کھلاڑی نے بوسے پر رضامندی ظاہر کی تھی۔ جینی ہرموسو نے بعد میں اپنی غلطی پر معافی مانگ لی جس پر عدالت نے ان کا اعتراف جرم سمجھتے ہوئے انہیں جرمانہ عائد کر دیا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *