مراکش کشتی حادثہ نہیں، قتل عام تھا، بچ جانے والے پاکستانیوں کے تہلکہ خیز بیانات
لاہور :مراکش کشتی حادثے میں زندہ بچ جانے والے پاکستانیوں کے ابتدائی بیانات ریکارڈ میں ہولناک انکشافات سامنے آئے ہیں۔ایک خاتون سمگلر کو بھی گرفتار کیا گیاہے جبکہ دیگر کی تلاش جاری ہے ۔ سمگلروں نے تاوان دینے والوں کو چھوڑ دیا اور نہ دینے والوں کو ہتھوڑے مار کر سمندر میں پھینک دیا۔ اس تہلکہ خیز انکشاف کے بعد ایف آئی اے حرکت میں آگئی ہے ۔ اس ضمن میں پاکستان سے ایف آئی اے کی ٹیم مراکش پہنچی ہے جہاں اس نے بچ جانے والے پاکستانیوں کے بیانات ریکارڈ کئے ہیں ۔
ان پاکستانیوں نے بتایا کہ مراکش میں کشتی حادثہ نہیں بلکہ قتل عام ہوا۔ انسانی اسمگلروں کے ایجنٹوں نے کشتی کھلے سمندر میں جان بوجھ کر کئی دن روکے رکھی اور تاوان مانگا۔ جن لوگوں نے تاوان دے دیا انہیں چھوڑ دیا گیا۔ مزید پیسے نہ دینے والے بہت سے مسافروں کو ہتھوڑے مار کر سمندر میں پھینک دیا گیا۔ متاثرہ پاکستانیوں نے اپنے بیان میں بتایا کہ کشتی میں سوار بیشتر لوگ سرد موسم اور تشدد کے باعث ہلاک ہوئے۔ وہاں موجود افراد کو کھانے پینے کی قلت کا بھی سامنا تھا۔ کشتی انٹرنیشنل ہیومن ٹریفکنگ ریکٹ کی نگرانی میں تھی، اس ریکٹ میں سنیگال، موریطانیہ اور مراکش کے اسمگلر شامل ہیں جبکہ پاکستانی سمگلر کا کردار پیسے لے کر کشتی تک پہنچانے تک محدود تھا۔
