پاکستانخاص خبریں

کرم ایجنسی میں کشیدگی کے باعث 128بچوں سمیت 200افراد ہلاک ہوئے ، مقامی تنظیم کا دعویٰ

پشاور :خیبرپختونخوا کے ضلع کرم میں اشیائے خورونوش اور ادویات کی قلت  کے باعث علاقہ بحران کا شکار ہے ۔ اس ساری صورتحال میں سول سوسائٹی کی جانب سے ادویات کی قلت سے اب تک 128 بچوں سمیت 200 افراد کی اموات کا دعویٰ سامنے آیاہے ۔ کرم میں راستوں کی بندش کو 84 روز گزر گئے ہیں ۔ کرم میں راستوں کی بندش کے باعث ہرگزرتے دن صورتحال ابتر ہوتی جارہی ہے۔ پاراچنار میں پریس کلب کے باہر جب کہ سلطان اور گوساڑ کے علاقے میں احتجاجی دھرنے جاری ہیں ۔ لوئر کرم کے علاقے بگن میں علاقے کی دکانوں اور گھروں کو نقصان پہنچنے کے خلاف احتجاجی دھرنا جاری ہے ۔

مظاہرین نے واضح کردیا کہ مطالبات کی منظوری تک دھرنا جاری رہے گا۔سماجی رہنما میر افضل خان کا کہنا ہے کہ راستوں کی بندش کے باعث اشیائے خوردونوش اور روزمرہ اشیا ختم ہونے کی وجہ سے تمام بازار بند پڑے ہیں ادھر مقامی رجسٹرڈ تنظیم سول سوسائٹی نے علاج وسہولیات نہ ملنے کے باعث 128 بچوں سمیت 200 افراد کی جاں بحق ہونے کی تصدیق کی ہے، جاں بحق افراد میں کینسر کے مرض میں مبتلا مریضوں کی تعداد زیادہ ہیں جو ویکسین نہ ملنے سے دم توڑ گئے ہیں۔ سول سوسائٹی کے مطابق ہسپتال میں سہولیات فراہم نہ کی گئی اور ادویات کا بندوبست نہ کیا گیا تو مزید انسانی بحران پیدا ہوسکتا ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *