وہاڑی میں سائلین پولیس کی روایتی سستی کی بھینٹ چڑھنے لگے
وہاڑی(سید صفدر عباس شاہ ) وہاڑی پولیس اپنے ہی ادارے کے سربراہ ، آئی جی پنجاب کی ہیلپ لائن ناکام بنانے پر تل گئی ۔ سائلین کو بروقت انصاف فراہمی ناممکن لگنے لگی ۔ تھانوں اور پولیس افسران کے دفتروں میں چکر لگانا گھنٹوں انتظار کی سولی پر لٹکنا معمول بن گیا۔ تفصیلات کے مطابق آئی جی پنجاب ڈاکٹر عثمان انور نے تھانوں سے روایتی پولیس کلچر ختم کرنے اور بروقت انصاف کی فراہمی کیلئے پولیس ہیلپ لائن 1787 کا اجرا کیا تھا۔ اس ہیلپ لائن کا مقصد امیر اور غریب میں فرق کئے بغیر اعلیٰ سطح سے ہدایات موصول ہونے کے بعد ضلع سمیت تحصیل لیول پر بروقت انصاف کی فراہمی کو یقینی بنانا تھا مگر یوں لگ رہاہے کہ پولیس اہلکار خود ہی اپنے آئی جی کے وژن کو ناکام بنانے کی درپے ہیں ۔
شہریوں کا کہنا ہے کہ جب بھی ہیلپ لائن پر کال کرتے ہیں تو متعلقہ افسر کے ریڈر یا پی اے کی جانب سے سائل کو بلوا یا جاتا ہے پھر گھنٹوں کا انتظار ہوتا ہے ۔ پورا دن برباد کرنے کے بعد افسر معاملے کا نوٹس لیتے ہیں ۔ روایتی انصاف فراہمی کا وعدہ تو کیا جاتا ہے مگر سائل کی خواری بہت زیادہ ہوتی ہے ۔ سائلین باسط علی، نذیر احمد، سرفراز،ماجد حسین اور عتیق الرحمن نے بتایا کہ تھانوں میں انصاف نام کی کوئی چیز نہیں۔ انہوں نے الزام لگایا کہ ایس ایچ اوز صرف رشوت وصول کرنے بیٹھے ہیں اور پروٹوکول میں مصروف رہتے ہیں ۔ ضلع وہاڑی کے متعدد تھانوں میں کرپٹ افسران کو ترجیح بنیادوں پر ایس ایچ اوتعینات کیا جاتا ہے ۔ عوامی، سماجی حلقوں نے وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز اور آئی جی پنجاب ڈاکٹر عثمان انور سے اس معاملے پر نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔
