جذباتی خطاب کےبعداچانک بشریٰ بی بی ڈی چوک سےکیوں واپس چلی گئیں؟
اسلام آباد :تحریک انصاف کےاحتجاج میں اچانک ڈرامائی موڑاس وقت آیا جب بشریٰ بی بی اچانک ڈی چوک سےروانہ ہوگئیں ۔ان کے ساتھ ساتھ علی امین گنڈاپوربھی گاڑی میں بیٹھےاور کارکنوں کے دباؤ کے باوجود ڈی چوک سےپیچھےہٹ گئے۔ذرائع کےمطابق ان کےجاتےہی فورسزنےکارکنوں کوپیچھےدھکیل دیاجس کےکچھ ہی دیر بعد ڈی چوک کلیئرکرا لیا گیا۔ وفاقی وزرا عطا تارڑ اورمحسن نقوی نےفاتحانہ طورپراعلان کیا کہ پی ٹی آئی کےمشتعل کارکن بھاگ نکلے ہیں ۔ بشریٰ بی بی کے حوالےسے ان کی بہن مریم وٹواور سیکرٹری پی ٹی آئی شیخ وقاص اکرم کےمتضاد بیانات سامنے آئے ہیں جس سے معاملہ مزید الجھ گیا ہے ۔رات گئے بشریٰ بی بی کی بہن مریم وٹو نے کہا کہ بشریٰ بی بی اسلام آباد میں ہی موجود ہیں ۔ اس کے کچھ ہی دیر بعد ان کا بیان آیا کہ بشریٰ بی بی کے خیبر پختونخواہ جانے کی اطلاع ہےمگر ان سے رابطہ نہیں ہورہا۔ خدشہ ہے انہیں اغواکرلیا گیاہے ۔
دوسری جانب پی ٹی آئی کے سیکرٹری جنرل شیخ وقاص اکرم نے کہا کہ بشریٰ بی بی اورعلی امین گنڈا پور محفوظ ہیں تاہم سوشل میڈیا پر جاری بیان میں انہوں نے یہ نہیں بتایا کہ وہ کہاں ہیں۔ اسلام آباد پولیس کے آپریشن کے بعد بشریٰ بی بی اور وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈا پور کے ایک ہی گاڑی میں فرار ہو کر خیبر پختونخوا فرار ہونے کی اطلاعات موصول ہوئی تھیں، جس کے بعد علی امین گنڈا پور منظر عام پر آئے اور پریس کانفرنس کی جبکہ بشریٰ بی بی منظر عام سے غائب ہیں
