ماضی کی وہ اداکارہ جو شدید کرب کے بعد پرسکون طور پر دنیا چھوڑ گئیں
لاہور:روحی بانوکی بے مثال اداکاری پر ان کے مداح آج بھی انہیں یاد کرتے ہیں ۔ ایسے میں جہاں ان کے مداح ان کے ڈراموں کو بے حد پسند کرتے تھے وہیں ان کی حالت زار بالخصوصی زندگی کے آخری چند سالوں کو یاد کر کے بہت بے چین بھی ہو جاتے تھے ۔ حال ہی میں روحی بانو کی بھانجی ماڈل و اداکارہ فریال محمود نے کہا ہے کہ شدید دماغی عارضے میں مبتلا خالہ روحی بانو کے پرسکون انتقال کی خبر سن کر انہیں بھی سکون ملا، کیوں کہ ان کی خالہ بہت تکلیف دہ زندگی گزار رہی تھیں۔
فریال محمود نے حال ہی میں اشنا شاہ کے پروگرام میں شرکت کی، جہاں روحی بانو سے متعلق پوچھے گئے سوال پر انہوں نے ماضی کی مقبول اداکارہ سے اپنے رشتے پر بھی بات کی اور پہلی مرتبہ بتایا کہ روحی بانو کے آخری ایام کس قدر کرب ناک تھے ۔ اداکارہ نے بتایا کہ روحی بانو ان کی والدہ کی سگی کزن تھیں، اس طرح سے وہ ان کی خالہ ہوئیں اور ان کے درمیان اچھے خاندانی تعلقات رہے۔ ان کی خالہ روحی بانو دماغی عارضے میں مبتلا تھیں ۔ وہ شیزو فرینیا نامی بیماری کا شکار ہو گئی تھیں جس کی وجہ سے وہ بے حد بے چین رہتیں تھیں ۔ فریال محمود نےمزید بتایا کہ انہیں ان کی والدہ نے بتایا کہ روحی بانو کی بیماری بڑھتی عمر کے ساتھ ساتھ بہت زیادہ گھمبیر ہوتی چلی جارہی تھی ۔

فریال محمود نے بتایا کہ روحی بانو نے نفسیات کی ڈگری حاصل کر رکھی تھی۔ روحی بانو کوصدمہ اس وقت پہنچا تھا جب ان کے اکلوتے بیٹے علی کو جائیداد کی خاطر قتل کیا گیا، جس نے اداکارہ کی زندگی بے رنگ کر دی ۔ انہیں ہسپتال داخل کرایا گیا مگر وہ بھاگ کر گھر واپس آگئیں ۔ فریال محمود کا کہنا تھا کہ روحی بانو کو زندگی کے آخری ایام تک یہ خوف تھا کہ ان کے گھر پر قبضہ کر لیاجائے گا۔

روحی بانو کو ترکیہ لے جایا گیا جہاں اپنی بہن کےگھر رہائش پذیر رہیں پھر وہیں ان کا انتقال ہوا ۔ جب وہ اس دنیا سے چلی گئیں تو سکون ہوا کیوں کہ وہ بہت بے چین زندگی گزار رہی تھیں ۔ واضح رہے کہ ماضی کی مقبول اداکارہ روحی بانو زندگی کے آخری سال میں شدید علالت کے بعد 2019 میں ترکیہ میں انتقال کر گئی تھیں جبکہ پہلی مرتبہ ان کی زندگی سے متعلق اہم باتیں سامنے آئی ہیں ۔
