ایران کا ساتھ دینے والے ممالک کو تباہ کن معاشی نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا: صدر ٹرمپ کی دھمکی
صدر ٹرمپ کی اس دھمکی کا مقصد ایران پر دباؤ بڑھا کر اسے اپنے مطالبات پر جھکنے پر مجبور کرنا ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کا ساتھ دینے والے یا اسے کسی بھی قسم کی معاشی اور مالی امداد فراہم کرنے والے ہر ملک کو سنگین معاشی نتائج کی کھلی دھمکی دے دی ہے۔
صدر ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پیغام میں واضح کیا کہ جو بھی ملک، بینک، کاروباری ادارہ یا ایئرپورٹ ایران کے لیے کسی بھی نوعیت کی مدد کا ذریعہ بنے گا، اسے امریکا کی جانب سے بے مثال معاشی تنہائی اور سخت پابندیوں کا سامنا کرنا پڑے گا۔
صدر ٹرمپ کی اس دھمکی کا مقصد ایران پر دباؤ بڑھا کر اسے اپنے مطالبات پر جھکنے پر مجبور کرنا ہے۔
امریکا اور ایران کے درمیان جاری اس جنگ نے خلیجی ممالک سمیت عالمی منڈیوں میں شدید بے چینی پیدا کر رکھی ہے، خصوصاً جب سے ایران نے آبنائے ہرمز کے ذریعے بحری جہاز رانی کو محدود کیا ہے، جہاں سے دنیا کا پانچواں حصہ تیل گزرتا ہے۔
اپریل اور جون کے مہینوں میں امریکا اور ایران کے درمیان دو مرتبہ وقفے وقفے سے سیز فائر کے معاہدے ہوئے تھے تاکہ اس اہم سمندری راستے سے تجارت بحال کی جا سکے، تاہم تمام تر کوششوں اور مذاکرات کے باوجود یہ معاہدے برقرار نہ رہ سکے اور ناکام ہو گئے۔
اسی تناظر میں متحدہ عرب امارات نے مبینہ طور پر ایرانی بیلسٹک میزائل حملے کا الزام عائد کرتے ہوئے تہران کے ساتھ تمام تجارتی، معاشی اور مالیاتی تعلقات تا حکمِ ثانی معطل کر دیے ہیں، جبکہ ایران نے اس الزام کو بے بنیاد قرار دیا ہے۔
دوسری طرف چین جو ایران کا اس وقت سب سے بڑا تیل کا خریدار ہے، ان امریکی پابندیوں کے اثرات سے براہِ راست متاثر ہو سکتا ہے، تاہم امریکی انتظامیہ کے لیے چین جیسے بڑے تجارتی شراکت دار پر سخت اقدامات اٹھانا خود امریکی معیشت اور ضروری معدنیات کی فراہمی کے لیے خطرہ بن سکتا ہے۔
ایرانی سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کے مشیر محمد مخبر نے امریکی دھمکیوں پر اپنا موقف بیان کرتے ہوئے کہا ہے کہ جمہوریہ اسلامی ایران امریکا کے ساتھ بات چیت اور سفارتی حل کے لیے تیار ہے، لیکن واشنگٹن کسی بھی صورت مذاکرات کو ایران کے تسلیمِ رضا یا سرنڈر کرنے سے تعبیر نہ کرے۔
انہوں نے واضح کیا کہ عسکری دباؤ اور معاشی پابندیاں ایرانی قوم کے عزم اور فیصلے کو کبھی توڑ نہیں سکتیں۔
واشنگٹن میں بھی اس صورتحال پر متضاد بیانات سامنے آ رہے ہیں جہاں صدر ٹرمپ کا کہنا ہے کہ اس وقت ایران کے ساتھ کوئی باقاعدہ مذاکرات نہیں ہو رہے، جبکہ ان کے داماد اور نمائندہ خصوصی جیرڈ کُشنر نے دعویٰ کیا ہے کہ پردے کے پیچھے بات چیت جاری ہے اور پہلے سے زیادہ مضبوط مرحلے میں ہے۔
امریکی صدر 2018 کے پرانے ایٹمی معاہدے سے نکلنے کے بعد اب ایران کے ساتھ ایک نیا اور سخت ترین معاہدہ چاہتے ہیں جس میں ایران کے تمام افزودہ یورینیم کے ذخائر امریکا کے حوالے کرنے کی شرط شامل ہے، جبکہ ایران دہائیوں سے یہ واضح کرتا آیا ہے کہ اس کا ایٹمی پروگرام صرف اور صرف پرامن اور شہری ضروریات کے لیے ہے۔
