چھ سالہ جلاوطنی کا خاتمہ: شہزادہ ہیری اور میگھن کی رواں ماہ برطانیہ واپسی کا پلان
شہزادہ ہیری نے اپنی کتاب اور دیگر مواقع پر اپنے والد، بادشاہ چارلس، اور بڑے بھائی شہزادہ ولیم کے بارے میں بھی سخت باتیں کیں۔

شہزادہ ہیری اور ان کی اہلیہ میگھن مارکل رواں ماہ اپنے دونوں بچوں، شہزادہ آرچی اور شہزادی لِلی بیٹ، کے ہمراہ برطانیہ منتقل ہونے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ جوڑا امریکا منتقل ہونے کے تقریباً چھ سال بعد برطانیہ میں ایک طویل عرصے کے لیے قیام کرے گا، جبکہ دونوں بچوں کی تعلیم بھی ستمبر سے برطانیہ میں شروع ہونے کی توقع ہے۔
امریکی جریدے پیپل اور برطانوی اخبار دی ٹیلی گراف نے ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ ہیری، میگھن، آرچی اور لِلی بیٹ کیلیفورنیا سے برطانیہ منتقل ہوں گے۔ تاہم، شہزادہ ہیری کے ترجمان اور بکنگھم پیلس نے ان رپورٹس پر باضابطہ طور پر کوئی تبصرہ نہیں کیا۔ تاہم جوڑے کے ایک قریبی ذریعہ نے ان خبروں کی تصدیق کی ہے۔
رائٹرز کے مطابق ہیری اور میگھن شاہی محل میں نہیں رہیں گے اور شاہی خاندان کے فعال ارکان کی حیثیت سے بھی اپنی ذمہ داریاں ادا نہیں کریں گے۔ دونوں نے 2020 میں شاہی فرائض سے دستبردار ہونے کے وقت ملکہ الزبتھ دوم کے ساتھ طے کیے گئے انتظامات کے تحت غیر فعال شاہی حیثیت برقرار رکھی تھی۔
ہیری اور میگھن کی شادی 2018 میں ونڈسر کاسل میں ہوئی تھی۔ سابق امریکی اداکارہ میگھن سے ہیری کی شادی کو اس وقت برطانوی شاہی خاندان کے لیے ایک نئے دور کی علامت قرار دیا گیا تھا۔ تاہم شادی کے کچھ عرصے بعد ہی جوڑے کے شاہی خاندان کے دیگر افراد کے ساتھ تعلقات میں اختلافات سامنے آنے لگے۔
مارچ 2020 میں ہیری اور میگھن نے اعلان کیا کہ وہ شاہی فرائض سے دستبردار ہو رہے ہیں اور برطانیہ چھوڑ کر امریکا منتقل ہو رہے ہیں۔ اس خود ساختہ جلا وطنی کے بعد انہوں نے کیلیفورنیا کے مونٹی سیٹو علاقے میں گھر بنایا، جہاں وہ اپنے بچوں کے ساتھ رہتے رہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق اس گھر کی قیمت تقریباً ایک کروڑ 47 لاکھ ڈالر تھی۔
امریکا منتقل ہونے کے بعد ہیری اور میگھن نے مختلف ٹی وی انٹرویوز، ایک نیٹ فلکس دستاویزی سیریز اور ہیری کی کتاب ”اسپیئر“ کے ذریعے شاہی خاندان اور شاہی نظام کے بارے میں اپنے تجربات بیان کیے۔ ان بیانات نے برطانوی شاہی خاندان کے اندر موجود اختلافات کو عوامی سطح پر نمایاں کر دیا۔
2021 میں امریکی میزبان اوپرا ونفری کو دیے گئے ایک انٹرویو میں میگھن نے کہا تھا کہ شاہی خاندان کے ایک فرد نے ان کے بیٹے آرچی کی جلد کے رنگ کے بارے میں سوال کیا تھا۔ اس معاملے نے عالمی سطح پر خاصی توجہ حاصل کی۔ شہزادہ ولیم نے اس کے بعد شاہی خاندان کے نسل پرست ہونے کی تردید کی تھی۔
شہزادہ ہیری نے اپنی کتاب اور دیگر مواقع پر اپنے والد، بادشاہ چارلس، اور بڑے بھائی شہزادہ ولیم کے بارے میں بھی سخت باتیں کیں۔ اس کے نتیجے میں دونوں بھائیوں کے تعلقات میں شدید کشیدگی پیدا ہوئی اور ان کے درمیان رابطہ انتہائی محدود ہوگیا۔
ہیری اور برطانوی حکومت کے درمیان بھی سکیورٹی کے معاملے پر اختلاف رہا ہے۔ شاہی ذمہ داریوں سے دستبرداری کے بعد ان کی سرکاری سکیورٹی میں تبدیلی کی گئی، جس پر ہیری نے اعتراض کیا۔ ان کا مؤقف رہا ہے کہ برطانیہ میں خودکار پولیس تحفظ نہ ہونے کی وجہ سے وہ اپنے بچوں کو وہاں لانے کے بارے میں فکرمند تھے۔
تاہم حالیہ مہینوں میں ہیری اور ان کے والد بادشاہ چارلس کے تعلقات میں کچھ بہتری کے آثار نظر آئے ہیں۔ گزشتہ ستمبر میں دونوں نے تقریباً 20 ماہ بعد مختصر ملاقات کی تھی۔ چارلس کو 2024 میں کینسر کی ایک قسم کی تشخیص ہوئی تھی اور بعد میں انہوں نے بتایا کہ علاج کے نتیجے میں ان کی صحت میں نمایاں بہتری آئی ہے۔
گزشتہ ماہ ہیری، میگھن اور ان کے بچے برطانیہ آئے تھے، جہاں بادشاہ چارلس نے اپنے پوتے آرچی اور پوتی لِلی بیٹ سے ملاقات کی۔ یہ ملاقات 2022 کے بعد بچوں اور ان کے دادا کے درمیان پہلی ملاقات تھی۔ تاہم رپورٹس کے مطابق بادشاہ کو ہیری اور میگھن کے برطانیہ واپس آنے کے منصوبے کا علم صرف اتوار کے روز ہوا۔
ہیری اور میگھن کے تعلقات میں بادشاہ چارلس کے ساتھ بہتری کے باوجود شہزادہ ولیم کے ساتھ ان کے تعلقات اب بھی کشیدہ ہیں۔ رپورٹس کے مطابق دونوں بھائیوں کے درمیان معمول کے مطابق بات چیت نہیں ہو رہی۔
امریکا میں رہتے ہوئے ہیری اور میگھن نے کئی کاروباری اور میڈیا منصوبے بھی شروع کیے۔ انہوں نے اسپاٹی فائی کے ساتھ پوڈکاسٹ اور نیٹ فلکس کے ساتھ مختلف پروگراموں کے لیے بڑے مالی معاہدے کیے۔ میگھن نے ایک طرز زندگی سے متعلق شو کی میزبانی بھی کی، تاہم ان منصوبوں کے نتائج یکساں نہیں رہے۔
ہیری کی خودنوشت ”اسپیئر“ بہت زیادہ فروخت ہونے والی کتاب ثابت ہوئی، لیکن جوڑے کا اسپاٹی فائی معاہدہ ختم ہوگیا جبکہ میگھن کے نیٹ فلکس شو کو تیسرے سیزن کے لیے توسیع نہیں دی گئی۔
ہیری اور میگھن کی برطانیہ واپسی ایسے وقت میں ہو رہی ہے جب شاہی خاندان کے ساتھ ان کے تعلقات میں مکمل مفاہمت تو نظر نہیں آتی، لیکن بادشاہ چارلس کے ساتھ رابطے میں کچھ بہتری ضرور آئی ہے۔ بچوں کا برطانیہ میں اسکول شروع کرنا اس بات کی علامت بھی سمجھا جا رہا ہے کہ خاندان آئندہ کچھ عرصہ امریکا کے بجائے برطانیہ میں زیادہ وقت گزارنے کا ارادہ رکھتا ہے۔
