کاکروچ جنتا پارٹی کےاحتجاج پرپولیس تشدد پربھارتی اداکاروں کا ردعمل سامنےآگیا
بھارت میں نوجوانوں کی سیاسی جماعت کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) کے احتجاج پر پولیس تشدد پر بھارتی اداکاروں نے بھی ردعمل دیا ہے۔

بالی وڈ اور ساؤتھ فلم انڈسٹری کے معروف سینئر اداکار پرکاش راج نے دیگر اداکاروں کی خاموشی سے متعلق سوال پر کہا کہ سب کو معلوم ہوگیا ہےکہ کون کیا ہے، ایسی تحریکیں بتا دیتی ہیں کہ کس میں دیانت ہے اور کون عوام کے ساتھ کھڑا ہوگا۔
پرکاش راج کا کہنا تھا کہ بہت سے لوگوں کی مضبوط آواز ہے، وہ بڑے اداکار ہیں۔ میری خواہش تھی کہ وہ اپنی آواز اس مقصد کے لیے استعمال کرتے، مگر انہوں نے ایسا نہیں کیا، اب عوام خود فیصلہ کریں گے، جب کل تاریخ لکھی جائے گی تو ممکن ہے لوگ غلطی کرنے والوں کو معاف کر دیں، لیکن خاموش رہنے والوں کو کبھی معاف نہیں کریں گے۔
پریتی زنٹا کا کاکروچ جنتا پارٹی کے احتجاج کی حمایت کا اعلان
بالی وڈ اداکارہ پریتی زنٹا نے سوشل میڈیا پر جاری بیان میں سی جے پی کی قیادت میں جاری طلبہ احتجاج کی حمایت کا اظہار کیا اور سماجی کارکن سونم وانگچک سے بھوک ہڑتال ختم کرنےکی اپیل کرتے ہوئےکہا کہ امید ہے حکومت بامعنی بات چیت شروع کرےگی۔
ایکس پر اداکارہ نے لکھا کہ سونم وانگچک براہ کرم اپنی بھوک ہڑتال ختم کریں، آپ کی صحت بھی اتنی ہی اہم ہے جتنی یہ جدوجہد۔ تعلیمی نظام کو بہتر اور مضبوط بنانے کی اس جدوجہد میں ہر طالب علم اور سونم کے لیے میری دلی اور غیر متزلزل حمایت ہے۔
کل کے مناظر دیکھ کر میرا دل ٹوٹ گیا، سونم باجوہ
معروف اداکارہ سونم باجوہ نے سوشل میڈیا پر جاری بیان میں کہا کہ یہ ہمارے ملک کے نوجوانوں کی آوازیں ہیں،کوئی خطرہ نہیں۔ ان کی بات سننےکے بجائے ان کا استقبال لاٹھیوں سے کیوں کیا جا رہا ہے؟ یہ سیاست کا معاملہ نہیں، بلکہ طاقت کے بجائے ہمدردی کا انتخاب کرنے کا وقت ہے۔ ان کی آواز سنی جانی چاہیے، انہیں تکلیف نہیں پہنچائی جانی چاہیے۔
انسٹاگرام پوسٹ کےکیپشن میں سونم باجوہ نے لکھا کہ کل کے مناظر دیکھ کر واقعی میرا دل ٹوٹ گیا۔ یہ کسی ایک فریق کا ساتھ دینےکی بات نہیں، بلکہ انسانیت کا ساتھ دینےکی بات ہے۔
کاکروچ جنتا پارٹی کے مظاہرین سے نمٹنے پرکنگنا رناوت کی پولیس کی تعریف
دوسری جانب بالی وڈ اداکارہ اور بی جے پی کی رکن پارلیمنٹ کنگنا رناوت جو احتجاج کے دوران پارلیمنٹ میں موجود تھیں، نےکہا کہ ہم لوگ گھبرا گئے تھے، دروازے بھی بند کر دیےگئے تھے۔ ارکان پارلیمنٹ بھی اندر ہی رہ گئے تھے، ہجوم جس طرح حملہ کرنےکے انداز میں آگے بڑھ رہا تھا، ہم سب خوفزدہ ہوگئے تھےکہ شاید وہ ہم پر حملہ کر دیں گے۔لیکن میں دہلی پولیس کی تعریف کرتی ہوں۔ انہوں نے ہمارے درمیان ڈھال بن کر خود پتھر کھائے، چوٹیں برداشت کیں لیکن ہمیں کسی بھی نقصان سے محفوظ رکھا۔
خیال رہےکہ گزشتہ روز بھارتی پولیس اور سول کپڑوں میں موجود افراد نے نئی دہلی میں کاکروچ جنتا پارٹی کی قیادت میں اپنے حقوق کے لیے نئی دہلی کے علاقے جنتر منتر پر جمع ہزاروں کی تعداد میں نوجوان لڑکے اور لڑکیوں پر بدترین تشدد کیا تھا جس کی ویڈیوز اور تصاویر سوشل میڈیا پر وائرل ہو رہی ہیں۔
کاکروچ جنتا پارٹی نے بھارتی وزیر تعلیم کے استعفے تک احتجاج جاری رکھنے کا اعلان کیا ہے اور جنتر منتر پر دھرنا جاری ہے۔
بھارتی میڈیا کے مطابق بھارت میں لاکھوں طلبہ سرکاری ملازمتوں، میڈیکل کے داخلہ ٹیسٹ کے پیپر لیک، تعلیمی بدعنوانی اور بے روزگاری کے خلاف سڑکوں پر ہیں، نوجوانوں کی تنظیم کا کہنا ہے گزشتہ روز پارلیمنٹ جانے والے نوجوانوں پر لاٹھی چارج کیا گیا، ن کے سر پھاڑے گئے ، اس ظلم کی توقع نہیں کی تھی۔
