موسمیاتی تبدیلی 2026: پاکستان کے سیلاب دنیا کے لیےایک انتباہ ہیں

روحما عرفان ملک
موسمیاتی تبدیلی اب کوئی دور کا ماحولیاتی خطرہ نہیں رہی بلکہ یہ ہماری روزمرہ زندگی کو تیزی سے متاثر کر رہی ہے۔ پاکستان میں 2026 کے مون سون نے ایک بار پھر ملک کی موسمیاتی خطرات کے مقابلے میں کمزوری کو نمایاں کر دیا ہے، جہاں شدید بارشوں، دریائی سیلاب اور اچانک آنے والے سیلاب کے خطرات نے ملک کے مختلف علاقوں میں آبادیوں کو متاثر کیا ہے۔ ستمبر کے آغاز تک حکام حساس اور خطرے سے دوچار علاقوں میں سیلاب کے خدشات سے مسلسل آگاہ کر رہے ہیں، جبکہ پاکستان محکمۂ موسمیات نے کئی علاقوں میں مزید شدید بارشوں، شہری سیلاب اور اچانک سیلاب کے امکانات کی پیش گوئی کی ہے۔
پاکستان کا یہ تجربہ دراصل ایک بڑے عالمی رجحان کا حصہ ہے۔ عالمی موسمیاتی ادارے ڈبلیو ایم او کے مطابق 2015 سے 2025 تک کے 11 سال ریکارڈ شدہ تاریخ کے گرم ترین سال رہے ہیں۔ موجودہ پیش گوئیوں کے مطابق 2026 سے 2030 کے دوران کم از کم ایک سال ایسا آنے کا 86 فیصد امکان ہے جو 2024 کو پیچھے چھوڑتے ہوئے اب تک کا گرم ترین سال بن جائے گا۔
آنے والے برسوں میں دنیا کو شدید گرمی، غیر متوقع بارشوں، سیلاب، خشک سالی، جنگلات میں آگ اور پانی کی قلت جیسے بڑھتے ہوئے موسمیاتی دباؤ کا سامنا ہو سکتا ہے۔ پاکستان کے لیے یہ چیلنج خاص طور پر سنگین ہے کیونکہ موسمیاتی آفات زراعت، غذائی تحفظ، بنیادی ڈھانچے، روزگار اور معاشی استحکام کو براہِ راست متاثر کرتی ہیں۔
اس مسئلے کا حل صرف ہر آفت کے بعد ہنگامی امداد فراہم کرنا نہیں ہو سکتا۔ قبل از وقت انتباہ کے مؤثر نظام، موسمیاتی تبدیلیوں کو برداشت کرنے والا بنیادی ڈھانچہ، بہتر شہری منصوبہ بندی، مؤثر آبی انتظام اور مضبوط علاقائی تعاون کو طویل مدتی قومی ترجیحات بنانا ہوگا۔ پاکستان عالمی سطح پر گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں نسبتاً کم حصہ ڈالتا ہے، لیکن اس کے باوجود موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے ممالک میں شامل ہے۔
موسمیاتی تبدیلی کل آنے والا بحران نہیں ہے۔ 2026 کے سیلاب، شدید گرمی اور غیر معمولی موسمی حالات پہلے ہی ہمیں دکھا رہے ہیں کہ مستقبل کیسا ہو سکتا ہے—اور اس مستقبل کے لیے تیاری کا وقت ابھی ہے۔
