خاص خبریںعالمی خبریں

امریکہ کے 8 ویں روز بھی ایران پر فضائی حملے، آبنائے ہرمز کے قریبی شہروں میں دھماکے

اردن میں دو امریکی فوجیوں کی ہلاکت پر صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پینٹاگون کو ایران پر پوری شدت سے بمباری کا حکم دیا جس پر سینٹکام نے مسلسل آٹھویں رات ایران پر حملے کیے، بندرگاہی شہروں میں دھماکے ہوئے۔

ایرانی حکام اور ذرائع ابلاغ نے خوزستان اور ہرمزگان صوبوں کے مختلف علاقوں پر نئے امریکی حملوں کی اطلاع دی ہے۔

خوزستان کے گورنر کے دفتر کے ایک عہدیدار کا کہنا ہے کہ امریکی جنگی طیاروں نے ایرانی وقت کے مطابق صبح 5 بج کر 55 منٹ پر شادگان شہر کے نزدیک ایک مقام کو میزائل حملے میں نشانہ بنایا، ہنگامی امداد کی ٹیمیں موقع پر موجود ہیں اور نقصان کی نوعیت کے بارے میں تفصیلات بعد میں جاری کی جائیں گی۔

تسنیم نیوز نے بھی خبر دی ہے کہ صبح تقریباً 6 بج کر 10 منٹ پر جزیرہ قشم کے بعض علاقوں کو ایک بار پھر امریکی جنگی طیاروں نے نشانہ بنایا، جہاں کم از کم دو دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں۔

تسنیم نیوز کے مطابق میزائل حملوں کے مقامات اور ممکنہ جانی و مالی نقصان کے بارے میں تحقیقات جاری ہیں، اس سے چند گھنٹے قبل بھی قشم کے دیگر مقامات پر بھی کئی میزائل داغے گئے تھے۔

صوبہ ہرمزگان کے حکام کا کہنا ہے کہ ہفتہ اور اتوار درمیانی شب ڈیڑھ بجے سریک کے قریب ایک مقام کو امریکی فوجی حملے میں نشانہ بنایا گیا۔

مقامی حکام کا کہنا ہے کہ ہنگامی امدادی ٹیمیں جائے وقوعہ پر موجود ہیں اور ممکنہ نقصان کا جائزہ لیا جا رہا ہے، فوری طور پر کسی جانی نقصان یا نقصان کی نوعیت اور حجم کے بارے میں کوئی اطلاع سامنے نہیں آئی۔

تسنیم نیوز کے مطابق حالیہ دنوں میں سریک کو کئی مرتبہ امریکی حملوں کا نشانہ بنایا گیا ہے، جس سے شہر کو نقصان پہنچا ہے۔

تسنیم نیوز کے مطابق جنوبی ایران کے بندرگاہی شہروں بندر عباس اور بندر لنگہ میں دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں، حالیہ دنوں میں بندر عباس پر متعدد امریکی فضائی حملے کیے گئے، جن سے شہر کے بنیادی ڈھانچے کو نقصان پہنچا۔

بندر لنگہ جنوبی ایران میں واقع ہرمزگان صوبے کا ایک بندرگاہی شہر ہے، جو خلیج فارس کے ساحل پر واقع ہے، یہ صوبائی دارالحکومت بندر عباس سے تقریباً 160 کلومیٹر مغرب میں اور جزیرہ کیش سے تقریباً 30 کلومیٹر مشرق میں واقع ہے۔

یہ دونوں شہر آبنائے ہرمز کے قریب واقع نہایت اہم اور اسٹریٹجک علاقے میں واقع ہیں۔

خبر رساں ایجنسی تسنیم کے مطابق قشم جزیرے کے نواحی علاقوں پر کم از کم چھ میزائل گرے ہیں، سکیورٹی حکام اور متعلقہ اداروں نے تاحال اس واقعہ کے بارے میں کوئی باضابطہ بیان جاری نہیں کیا، ممکنہ جانی یا مالی نقصان کی نوعیت اور حجم کے بارے میں بھی ابھی تک کوئی معلومات جاری نہیں کی گئی ہیں۔

بعدازاں امریکی سینٹرل کمانڈ نے اعلان کیا ہے کہ صدر کے حکم پر 18 جولائی کی رات 11:30 بجے (مشرقی امریکی وقت) ایران کے خلاف حملوں کا ایک اور مرحلہ مکمل کیا گیا۔

یہ امریکا کی جانب سے مسلسل آٹھویں رات کی کارروائی تھی، جس کے دوران سینٹ کام کے مطابق ایرانی فوج کی ساحلی نگرانی کے مراکز، فضائی دفاعی تنصیبات، بحری صلاحیتوں، اور میزائل و ڈرون ذخیرہ گاہوں کو کامیابی سے نشانہ بنایا گیا تاکہ ایران کی فوجی صلاحیتوں کو مزید کمزور کیا جا سکے۔

بیان میں مزید کہا گیا کہ امریکی فوجی اثاثوں نے اسلامی انقلابی گارڈ کور کی ان فورسز کو بھی نشانہ بنایا جن پر 17 جولائی کو اردن میں تعینات امریکی فوجیوں پر حملوں کا الزام عائد کیا گیا ہے۔

سینٹ کام کے مطابق اس وقت 50 ہزار سے زائد امریکی فوجی مشرقِ وسطیٰ میں مختلف مقامات پر تعینات ہیں، اور وہ مکمل چوکسی کے ساتھ اپنی ذمہ داریاں انجام دینے، کارروائی کے لیے تیار رہنے اور ہر ممکن ردِعمل دینے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *