امریکہ محفوظ رہنا چاہتا ہے تو ہمارے خطے سے نکل جائے، عباس عراقچی
ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے خبردار کیا ہے کہ اگر امریکہ محفوظ رہنا چاہتا ہے تو ہمارے خطے سے نکل جائے۔

سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر عباس عراقچی نے امریکہ کی جانب سے ایران پر کیے گئے حملوں پر سخت رد عمل دیتے ہوئے کہا کہ امریکہ نے میدان جنگ میں ناکامیوں کے باوجود ایران کے عزم کو آزمانے کا فیصلہ کیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ امریکہ نے اپنی شکستوں کے باوجود ہماری قوتِ ارادی کو آزمانے کا انتخاب کیا، ہماری طاقتور مسلح افواج کسی بھی حملے یا دھمکی کا جواب دیے بغیر نہیں رہیں گی۔
ایرانی وزیر خارجہ نے اپنے پیغام میں مزید سخت مؤقف اختیار کرتے ہوئے واضح کیا کہ موجودہ صورتحال میں کسی بھی ممکنہ حملے کا بھرپور جواب دیا جائے گا۔
اس سے قبل اپنے ایک بیان میں ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا تھا کہ ایران کے علاقے کے قریب موجود غیر ملکی افواج مسلسل خطرے میں رہتی ہیں اور انسانی غلطی، حادثات یا ممکنہ کراس فائر کی صورت میں کشیدگی مزید بڑھ سکتی ہے، تناؤ کم کرنے کا بہترین اور مؤثر حل غیر ملکی افواج کا انخلا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایران سفارت کاری کو ترجیح دیتا ہے، تاہم ضرورت پڑنے پر دیگر آپشنز بھی موجود ہیں، جس طرح ایرانی مسلح افواج نے ماضی میں اپنی صلاحیتوں کا مظاہرہ کیا، اسی طرح ایران اپنے دفاع کیلئے ہر ممکن اقدام کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
عباس عراقچی نے کہا کہ آبنائے ہرمز بین الاقوامی پانی نہیں بلکہ ایران اور عمان کے درمیان واقع مشترکہ آبی گزر گاہ ہے، یہ امریکی ساحلوں سے ہزاروں میل دور واقع ہے اور اس کی بحری حدود مکمل طور پر واضح ہیں۔
ایرانی وزیر خارجہ کے مطابق ایرانی مسلح افواج ہر قسم کی فضائی، زمینی اور بحری خلاف ورزی پر ہائی الرٹ ہیں اور ملک کی خودمختاری کے تحفظ کیلئے مکمل طور پر تیار ہیں۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ خطے میں موجود غیر ملکی فوجی موجودگی خطرات میں اضافے کا سبب بن سکتی ہے، اس لیے کشیدگی میں کمی اور استحکام کے لیے ان افواج کا جلد از جلد انخلا ضروری ہے۔
