وفاقی بجٹ میں 1126 ارب روپے ترقیاتی منصوبوں کیلئے مختص کرنے کا تخمینہ
وفاقی وزیر منصوبہ بندی و ترقی احسن اقبال کی زیر صدارت سالانہ پلان کوآرڈینیشن کمیٹی کا اجلاس ہوا۔

پلاننگ کمیشن دستاویز کے مطابق اجلاس میں آئندہ مالی سال کے وفاقی بجٹ میں 1126 ارب روپے ترقیاتی منصوبوں کیلئے مختص کرنے کا تخمینہ لگایا گیا ہے، انرجی منصوبوں کیلئے 135 ارب، واٹر ریسورسز کیلئے 140 ارب مختص کرنے کا اندازہ لگایا گیا ہے۔
اس کے علاوہ ٹرانسپورٹ اینڈ کمیونیکیشن کیلئے 408 ارب روپے مختص کرنے کا حساب لگایا گیا، سوشل سیکٹر میں 187 ارب روپے خرچ کرنے کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔
جی ڈی پی گروتھ 4 فیصد رکھنے کا تخمینہ
مالی سال 27-2026 کیلئے جی ڈی پی کی شرح نمو کا ہدف 4 فیصد مقرر کرنے کی سفارش بھی زیر بحث آئی۔
دستاویز کے مطابق اہم فصلوں کی پیداوار کا ہدف 3.6 فیصد اور مینوفیکچرنگ کا ہدف 5.8 فیصد مقرر کیا گیا ہے، صنعتوں کی ترقی کا ہدف 4 فیصد مقرر کیا گیا۔
پلاننگ کمیشن دستاویز میں کہا گیا کہ رواں مالی سال جی ڈی پی گروتھ 3.7 فیصد ریکارڈ کی گئی، رواں مالی سال کیلئے جی ڈی پی گروتھ کا ہدف حاصل نہ ہو سکا، لارج سیکل مینوفیکچرنگ کا ہدف 4.5 فیصد مقرر کیا گیا ہے۔
گزشتہ 8 برس ترقیاتی منصوبوں کا بجٹ جمود کا شکار رہا: احسن اقبال
اجلاس کے بعد وفاقی وزیر منصوبہ بندی و ترقی احسن اقبال نے صحافیوں کو بتایا کہ ملک بھر میں جاری ترقیاتی منصوبوں کی تکمیل کیلئے تقریباً 10 ہزار ارب روپے درکار ہیں جبکہ ترقیاتی منصوبوں کیلئے وسائل میں اضافہ ناگزیر ہو چکا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ گزشتہ 8 برسوں کے دوران ترقیاتی بجٹ جمود کا شکار رہا، جس کے باعث متعدد منصوبے متاثر ہوئے۔
انہوں نے کہا کہ 2013 سے 2018 کے دوران پاکستان میں ترقیاتی بجٹ میں مسلسل اضافہ ہوا اور ملک بھر میں انفراسٹرکچر اور ٹیکنالوجی کے بڑے منصوبے شروع کئے گئے، 2018 میں ترقیاتی بجٹ کے مقررہ ہدف سے بھی زیادہ اخراجات کیے گئے تھے، تاہم اس کے بعد ترقیاتی شعبے میں زوال کا آغاز ہوا جو آج تک جاری ہے۔
وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ پاکستان میں ترقیاتی منصوبوں کیلئے سرمایہ کاری جی ڈی پی کے 2.6 فیصد سے کم ہو کر صرف 0.6 فیصد رہ گئی ہے، جبکہ 2018 کے بعد ترقیاتی منصوبوں کے لئے مختص وسائل میں مسلسل کمی دیکھی گئی۔
احسن اقبال نے کہا کہ اس وقت 5 ہزار ارب روپے مالیت کے منصوبوں کے پی سی ون پر کام جاری ہے جبکہ آئندہ مالی سال کے لیے 720 ارب روپے کے نئے منصوبوں کی تجاویز بھی زیر غور ہیں، جاری منصوبوں کی بروقت تکمیل حکومت کی اولین ترجیح ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ترقیاتی بجٹ کے حوالے سے صوبے نسبتاً زیادہ وسائل کے حامل ہوگئے ہیں جبکہ وفاق کو مالی مشکلات کا سامنا ہے، وفاقی بجٹ کا بڑا حصہ قرضوں کی ادائیگی پر خرچ ہو جاتا ہے، جس سے ترقیاتی منصوبوں کیلئے دستیاب وسائل محدود ہو جاتے ہیں۔
