لبیک اللھم لبیک! حج کا رکن اعظم ’’وقوف عرفہ‘‘ آج ادا کیا جائے گا
سعودی عرب میں مناسک حج کا سلسلہ جاری ہے، دنیا بھر سے آئے لاکھوں مسلمان آج وقوفِ عرفہ کیلئے بڑے قافلے کی صورت میں میدانِ عرفات روانہ ہوں گے۔

پہلے مرحلے میں حجاج کرام قافلوں کی صورت میں مکہ مکرمہ سے منیٰ پہنچے جہاں انہوں نے نمازِ ظہر، عصر، مغرب اور عشاء ادا کی، عازمینِ حج نے منیٰ میں رات بھر قیام کے دوران زیادہ تر وقت عبادات، ذکر و اذکار اور تلاوتِ قرآن پاک میں گزارا۔
منیٰ میں روح پرور مناظر دیکھنے میں آئے اور فضا لبیک اللھم لبیک کی صداؤں سے گونج اٹھی ہے۔
آج 9 ذی الحج کو حج کا رکنِ اعظم ’وقوفِ عرفہ‘ ادا کیا جائے گا، عازمین میدان عرفات میں جمع ہوں گے جہاں مسجدِ نمرہ سے دیا جانے والا خطبہِ حج سنیں گے اور ظہر و عصر کی نمازیں قصر ملا کر ایک ساتھ ادا کریں گے۔
میدانِ عرفات میں غروبِ آفتاب تک اللہ کے حضور توبہ استغفار اور دعاؤں کا سلسلہ جاری رہے گا۔
غروبِ آفتاب کے فوراً بعد عازمینِ حج عرفات سے مزدلفہ کیلئے روانہ ہوں گے، عازمینِ حج رات کھلے آسمان تلے مزدلفہ میں گزاریں گے، جہاں مغرب اور عشاء کی نمازیں ملا کر ایک ساتھ ادا کی جائیں گی اور جمرات (شیطانوں) کو مارنے کیلئے کنکریاں چُنی جائیں گی۔
10 ذوالحجہ کی صبح عازمینِ حج مزدلفہ سے دوبارہ منیٰ پہنچیں گے جہاں بڑے شیطان کو کنکریاں ماری جائیں گی، جس کے بعد قربانی کر کے بال کٹوائے جائیں گے اور احرام کھول دیا جائے گا، بعد ازاں حجاجِ کرام مکہ مکرمہ جا کر طوافِ زیارت کریں گے اور واپس منیٰ لوٹ آئیں گے۔
منیٰ میں قیام کے دوران حجاجِ کرام بقیہ دونوں دن بھی شیطانوں کو کنکریاں مارنے کا عمل (رمی) جاری رکھیں گے اور 12 ذوالحجہ کو غروبِ آفتاب سے قبل منیٰ سے روانہ ہوں گے، جس کے ساتھ ہی حج کے تمام مناسک مکمل ہو جائیں گے۔
سعودی حکومت نے شدید گرمی اور گردوغبار کے طوفان کے خدشے کے پیش نظر میدان عرفات اور اطراف میں خصوصی انتظامات کئے ہیں، منصوبے کے تحت درختوں کی شجرکاری، سایہ دار شیڈز، اور جدید کولنگ فینز نصب کئے گئے ہیں جو پانی کی پھوار کے ذریعے ماحول کو ٹھنڈا رکھنے میں مدد فراہم کریں گے۔
عازمین کی سہولت کیلئے میدان عرفات میں خصوصی راہداریاں بھی تیار کی گئی ہیں، جنہیں ایسے لچکدار مٹیریل سے بنایا گیا ہے کہ چلنے میں تھکن کم محسوس ہو۔
