ایران امریکا مذاکرات اگلے ہفتے اسلام آباد میں دوبارہ شروع ہونے کا امکان
دونوں ممالک ثالثی کردار ادا کرنے والوں سے مل کر ایک ایک صفحے پر مشتمل 14 نکاتی مفاہمتی یادداشت پر کام کر رہے ہیں

امریکی اخبار نے اپنی رپورٹ میں لکھا کہ دونوں ممالک ثالثوں کے ذریعے ایک ایک صفحے پر مشتمل 14 نکاتی مفاہمتی یادداشت تیار کرنے پر کام کر رہے ہیں، جس کے تحت ایک ماہ پر محیط مذاکراتی عمل شروع کیا جا سکتا ہے، اس عمل کا مقصد جاری کشیدگی اور جنگی صورتحال کا خاتمہ بتایا جا رہا ہے۔
رپورٹ کے مطابق مجوزہ مسودے میں ایران کے جوہری پروگرام، آبنائے ہرمز میں کشیدگی کم کرنے اور ایران کے اعلیٰ سطح پر افزودہ یورینیم کے ذخائر کو کسی دوسرے ملک منتقل کرنے جیسے امور شامل ہیں۔
رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ کئی اہم معاملات اب بھی حل طلب ہیں، جن میں ایران پر عائد پابندیوں میں ممکنہ نرمی کی حد ایک بڑا اختلافی نکتہ بنی ہوئی ہے، جو مذاکرات کی راہ میں رکاوٹ بن سکتی ہے۔
امریکی اخبار کے مطابق اگر ابتدائی مذاکرات میں پیشرفت ہوئی تو ایک ماہ کی مدت کو باہمی اتفاق سے مزید بڑھایا بھی جا سکتا ہے۔
