امریکی ناکہ بندی سےچاہ بہاربندرگاہ مفلوج، 20 سے زائد جہاز پھنس گئے
سینٹکام کے مطابق ناکہ بندی سے قبل چاہ بہار بندرگاہ پر روزانہ اوسطاً 5 جہاز لنگر انداز ہوتے تھے

امریکی سینٹرل کمانڈ نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکا کی جانب سے عائد کی گئی بحری ناکہ بندی کے باعث ایران کی تجارتی سرگرمیاں شدید متاثر ہو گئی ہیں، جس کے نتیجے میں بندرگاہ چاہ بہار پر 20 سے زائد جہاز پھنس کر رہ گئے ہیں۔
سینٹکام کے مطابق ناکہ بندی سے قبل چاہ بہار بندرگاہ پر روزانہ اوسطاً 5 جہاز لنگر انداز ہوتے تھے، تاہم موجودہ صورتحال میں بحری آمد و رفت تقریباً معطل ہو چکی ہے اور جہاز بندرگاہ پر ہی رکے ہوئے ہیں۔
امریکی حکام کا کہنا ہے کہ ان اقدامات کا مقصد ایران پر اقتصادی دباؤ بڑھانا ہے تاکہ اسے اپنے علاقائی اور عسکری پالیسیوں میں تبدیلی پر مجبور کیا جا سکے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ اس ناکہ بندی نے ایران کی معیشت اور بین الاقوامی تجارت کو نمایاں نقصان پہنچایا ہے۔
دوسری جانب ماہرین کا خیال ہے کہ چاہ بہار جیسے اہم بندرگاہ پر سرگرمیوں کی معطلی نہ صرف ایران بلکہ خطے کی مجموعی تجارت پر بھی اثر انداز ہو سکتی ہے، کیونکہ یہ بندرگاہ وسطی ایشیا اور دیگر علاقوں کے لیے اہم تجارتی راستہ سمجھی جاتی ہے۔
حالیہ کشیدگی کے تناظر میں آبنائے ہرمز اور اس کے اطراف کے سمندری راستوں کی صورتحال پہلے ہی غیر یقینی کا شکار ہے، جس کے باعث عالمی سطح پر توانائی اور تجارتی سپلائی چینز پر دباؤ بڑھ رہا ہے۔
