آیت اللہ خامنہ ای امریکی واسرائیلی حملے میں شہید، اسلامی دنیا کیلئے فیصلہ کن موڑآ گیا: ایرانی صدر
ایرانی میڈیا نے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ کی شہادت کی تصدیق کر دی، انہیں دفتر میں فرائض کی انجام دہی کے دوران شہید کیا گیا، ان کا بیٹا، بہو اور نواسی بھی شہید ہو گئے، اسرائیلی میڈیا نے ایران کے 40 سے زیادہ حکام قتل کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔

1989 سے ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کو امریکی و اسرائیلی حملے میں اس وقت قتل کیا گیا جب وہ اپنے دفتر میں اپنے فرائض منصبی انجام دے رہے تھے، ایرانی حکومت نے ان کی شہادت پر سات روزہ تعطیل اور چالیس روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے، ایران نے خامنہ ای کی شہادت کا بدلہ لینے کا اعلان کیا ہے اور واضح کیا ہے کہ اسرائیلی اور امریکی اڈوں پر حملوں کی نئی لہر شروع کی جائے گی۔
خیال رہے کہ آیت اللہ خامنہ ای نے آخری خطاب میں آخری دعا مانگی تھی کہ یااللہ مجھے شہادت نصیب فرما، یاللہ مجھے شہدا کے ساتھ رکھنا۔
واضح رہے کہ امریکا اور اسرائیل نے مل کر ایران پر حملہ کیا ہے جس میں اب تک ایران میں 86 بچیوں سمیت 201 سے زیادہ ایرانی شہری شہید ہو چکے ہیں جبکہ اسرائیلی و امریکی میڈیا کی جانب سے ایران کے 40 سے زیادہ حکام کو قتل کرنے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔
دوسری طرف ایران نے امریکی و اسرائیلی جارحیت کے بعد اسرائیل اور خلیجی ممالک میں موجود 14 امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنانا شروع کیا ہے جس میں سپریم لیڈر کی شہادت کے بعد تیزی آئے گی۔
ایرانی صدر نے کہا ہے کہ رہبرِ اعلیٰ آیت اللہ خامنہ ای کی شہادت ایک عظیم جرم ہے، ذمہ داران کو بھرپور جواب دیا جائے گا، سپریم لیڈر کے قتل کو اسلامی دنیا کی تاریخ کا اہم اور فیصلہ کن موڑ ثابت ہو گا، خون رائیگاں نہیں جائے گا اور ذمہ دار عناصر کو انجام تک پہنچایا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ امریکا اور صہیونی قوتوں کو اس اقدام کی قیمت چکانا ہوگی، قومی اتحاد اور عوامی حمایت سے مضبوط ردعمل دیا جائے گا، مجرموں اور منصوبہ سازوں کو اپنے اقدام پر پچھتانا پڑے گا، اسلامی دنیا اس واقعہ کو کبھی فراموش نہیں کرے گی۔
عرا ق کے اربیل ہوائی اڈے کے قریب زور دار دھماکے ہوئے ہیں، اربیل ہوائی اڈہ امریکا اور اس کے اتحادیوں کے زیر استعمال ہے، ہوائی اڈے سے گاڑھا سیاہ دھواں اٹھتا دیکھا گیا ہے۔
اس سے پہلے عراق میں مقدس روضہ جات کی لائٹیں سرخ کر دی گئی ہیں جو کہ انقلاب کی علامت سمجھی جا رہی ہیں۔
