ایس پی اسلام آباد عدیل اکبر کی خودکشی
تحریر:انیس عارف
خزاں کی اُس رات ، سرِبالاخیال کا ہما پھڑپھڑایا ،
زبان نے لفظ کا ذائقہ چکھنا چاہا تو دانتوں نے اسے روک لیا،
پیٹ کو بھوک لگی ہے ، دانتوں کو کھانا چبانا ہے،
اور گونگے خیال کا ہما بھر اڑان جا بیٹھا اک شجرِبیمار پر ؛
آنکھیں موند، غرق ایک عارضی اونگھ میں،
منتظرِآمدِتمازتِ بہاراں۔
یہ اوپر والی نظم ایس ایس پی ابرار نیکوکارہ مرحوم نے خود لکھی تھی جو ایک حساس دل کی عکاسی کرتی ہے. سوال یہ ہے کہ ایک ذہین شخص جو سی ایس ایس کا امتحان پاس کرجائے، بقول شخصے ڈی پی او کے طور پر ضلع کا مالک رہے، پستول بردار وردی پہنتا ہو اور شہر بھر میں اس کا ٹہکا ہو، وہ اپنی جان کیسے لے سکتا ہے؟ جواب یہ ہے کہ ڈپریشن کا مرض شاہ اور گدا کا فرق نہیں دیکھتا، بلکہ وہ شاہ کو زیادہ نشانہ بناتا ہے. ڈپریشن ایک ایسا ظالم مرض ہے کہ ایک جگہ کچھ بچوں کا غریب باپ، ان کے کپڑوں کے تقاضوں کی وجہ سے خودکشی کرلیتا ہے تو دوسری جگہ اپنی جان لینے والا بظاہر پاکستان کے طاقتور ترین طبقے سے تعلق رکھتا ہے.
انسان خودکشی کیوں کرتا ہے، ابرار نیکوکار کے اپنے آخری نوٹ میں لکھے الفاظ کچھ یوں ہیں ” انسان خود کشی اس لیے کرتا ہے جب وہ بیزار ہو جاتا ہے اور اسکو تخلیق کی سمجھ آ جاتی ہے جب ایک سمجھدار بندا اپنی جان لیتا ہے تو اسکی موت پر رونا نہیں کرتے اسکے فیصلے کا احترام کرتے ہوتے ہیں”. ہو سکتا ہے بعض لوگوں کو ان الفاظ میں کچھ رومانیت دکھائی دے، تاہم بہت سے لکھنے پڑھنے والوں نے خودکشی کرتے وقت اس سے ملتے جلتے نوٹ چھوڑے ہیں. تاہم نفسیاتی تجزیے کے اعتبار سے یہ نوٹ بیزاری اور اکیلے پن کی کیفیت کی عکاسی ہے جو کہ ڈپریشن کی بڑی وجوہات میں سے ہیں.
گزشتہ پندرہ برس میں جہانزیب کاکڑ، ابرار نیکوکار، عدیل اکبر، نبیحہ چوہدری سہیل احمد ٹیپو، بلال پاشا، اور کئی افسران، ڈپریشن کے ہاتھوں اپنی جان سے گزر چکے ہیں.
آج سے چند برس پہلے جب میرے بیچ میٹ اور دوست سہیل ٹیپو، ڈپٹی کمشنر گوجرانوالہ نے خودکشی کی تو میں نے کالموں کی سیریز لکھی تھی، “سہیل ٹیپو کو کس نے مارا “؟ وجوہات میں تو بہت کچھ نظر آتا ہے. نیکوکارہ کے حوالے سے گھریلو مناقشے کا ذکر کیا گیا ہے. ٹیپو مرحوم بھی کچھ ملی جلی کیفیت میں تھا. پچھلے دس برس میں مجھے آٹھ سے دس سینئر سول سرونٹس یاد آرہے ہیں جنہوں نے اپنی جان اپنے ہاتھوں لی. اللہ کریم ان کی لغزشوں سے درگزر کرے اور جوار رحمت میں جگہ عطا فرمائے.
ڈپریشن کے حوالے سے ہمیں بطور سوسائٹی بہت سیکھنے کی ضرورت ہے. وجوہات ان گنت ہوسکتی ہیں، ڈپریشن موروثی بھی ہوسکتا ہے، حادثاتی بھی اور ماحولیاتی بھی. ٹیپو اور نیکوکارہ دونوں کے حوالے سے ایسے بہت سے جملے سننے کو ملے کہ ‘وہ تو بہت بہادر تھا’ اور ‘اتنے بڑے عہدے پر بندے کو کیا مسئلہ ہوسکتا ہے’. چالیس ایکڑ کی کوٹھی میں رہنے والا کتنا اکیلا ہوسکتا ہے اور یہ تاج کہاں اور کس طرح چبھتا ہے، یہ پہننے والا ہی جان سکتا ہے. بہت کم لوگ جانتے ہیں کہ ایک سول سرونٹ کس طرح تنی ہوئی تار پر چلتا ہے اور جب وہ گرتا ہے تو اپنے ساتھ خاندان کو بھی لے ڈوبتا ہے.
گزشتہ برسوں میں تجویز کیا تھا کہ سول سروس کے لئے ایک ہیلپ لائن سیٹ اپ کی جائے جہاں بغیر کسی ہچکچاہٹ کے ڈپریشن کے مرض کی تشخیص اور علاج ہوسکے. پولیس میں یہ ضرورت کہیں زیادہ ہے. عام طور پر پاکستان میں ڈپریشن کو ‘زنانہ’ مرض سمجھا جاتا ہے جو سورماؤں کو لاحق نہیں ہوسکتا. تاہم ایک محتاط اندازے کے مطابق پاکستانی آبادی کے ہر چار میں سے ایک فرد کو کلینکل ڈپریشن کے علاج کی ضرورت ہے.
نفسیات کے شعبے میں بیس سال گزارنے کی وجہ سے، اس حوالے سے ایک کیمپین چلانی چاہی، تاکہ سول سروس میں ڈپریشن کے حوالے سے حجابات اٹھ سکیں اور ہر سال دوم کے سال بعد قیمتی جانوں کا ضیاع روکا جاسکے اور علاج موت سے پہلے مل سکے. سول سروس ہی نہیں عوام تک بھی ایسی سہولت کی پہنچ ہونی چاہیے. آئی جی پنجاب اور اسلام آباد سے اس حوالے سے بات بھی ہوئی، زبردست تجویز ہے، کہ کر سراہا بھی گیا مگر کوئی عملی اقدامات نہیں لیے گئے کہ ہر عہدے دار اپنے گبند ذات کے حصار میں ہے. سول سروس سے تعلق رکھنے والے احباب سے اس سلسلے میں مشورے اور توجہ کی درخواست ہے کہ پہلے ہی بہت دیر ہوچکی ہے، ڈپریشن ایک مرض ہے جو کسی کو بھی ہوسکتا ہے اور جان لیوا ثابت ہو سکتا ہے. . عدیل اکبر اور ان کے اہل خانہ کے لیے دعائیں
