این جی سی نے 500 کے وی کے ٹو کے تھری ٹرانسمیشن لائن کو توانائی سے منسلک کر دیا
لاہور: نیشنل گرڈ کمپنی آف پاکستان لمیٹڈ نے پانچ سو کے وی کے ٹو کے تھری مٹیاری اور پورٹ قاسم ٹرانسمیشن لائن سرکٹس کو کامیابی سے توانائی سے منسلک کر دیا ہے، جو کہ ملک کے بجلی کے نظام کو مضبوط بنانے کی جانب ایک اہم پیش رفت ہے۔ یہ 102 کلومیٹر طویل ٹرانسمیشن لائن (ڈبل سرکٹ، کواڈ-بنڈل کنفیگریشن) کراچی کے قریب واقع K2 اور K3 جوہری پاور پلانٹس سے 2,200 میگاواٹ بجلی منتقل کرنے کے لیے تعمیر کی گئی ہے۔
نئی ٹرانسمیشن لائن کے ذریعے پاکستان ایٹمی توانائی کمیشن (PAEC) کے KANUUP نیوکلیئر پلانٹس کو 500 کے وی پورٹ قاسم–مٹیاری لائن کے ساتھ براہِ راست منسلک کر دیا گیا ہے۔ اس منصوبے پر تقریباً 18.45 ارب روپے لاگت آئی ہے۔ یہ اہم ترقی نیشنل گرڈ کی منتقلی کی صلاحیت، پائیداری اور قابلِ بھروسا نظام کو نمایاں طور پر بہتر بنائے گی۔اس ٹرانسمیشن لائن کی توانائی سے وابستگی جنوبی پاکستان میں این جی سی کے گرڈ کی لچک کو بڑھائے گی، علاقائی ترقی کو فروغ دے گی، روزگار کے مواقع پیدا کرے گی اور مجموعی معاشی بہتری میں معاون ثابت ہو گی۔ یہ منصوبہ پاکستان کی توانائی تحفظ کی حکمت عملی کو بھی تقویت دے گا، جس میں صاف ستھری جوہری توانائی کو توانائی کے قومی مرکب میں شامل کیا جا رہا ہے۔
کئی چیلنجز کے باوجود، یہ سنگِ میل وزارت توانائی (پاور ڈویژن)، این جی سی بورڈ آف ڈائریکٹرز اور مختلف محکموں کی اجتماعی کاوشوں سے ممکن ہوا، جن میں پروجیکٹ ڈلیوری (ساؤتھ)، اثاثہ جات انتظامیہ (ساؤتھ)، ٹیلی کام، HVDC (ساؤتھ)، TSG (ساؤتھ)، ٹرانسمیشن لائن ڈیزائن، مٹیریل پروکیورمنٹ و مینجمنٹ، پروکیورمنٹ و کنٹریکٹ مینجمنٹ، پاور سسٹم پلاننگ، اور ISMO کی خصوصی معاونت شامل ہے۔ منیجنگ ڈائریکٹر این جی سی، انجینئر محمد شاہد نذیر نے اس کامیاب منصوبے پر تمام ٹیموں کو خراجِ تحسین پیش کیا اور کہا کہ یہ کامیابی این جی سی کے اس عزم کی مظہر ہے کہ پاکستان کے ٹرانسمیشن نیٹ ورک کو جدید خطوط پر استوار کیا جائے تاکہ مستقبل کے لیے قابلِ بھروسا بجلی کی فراہمی یقینی بنائی جا سکے
