عمران خان کے دعوے کے برعکس بیرون ممالک سے ترسیلات زر میں نمایاں اضافہ
اسلام آباد :بلوم برگ کی رپورٹ کے مطابق ڈالر کی غیر قانونی تجارت کے خلاف پاکستان کے اقدامات سے ترسیلات زر میں نمایاں بہتری آئی ہے۔ رپورٹ کے مطابق ترسیلات زر گزشتہ برس کے مقابلے میں نومبر تک 5 ماہ کے دوران 34 فیصد اضافے سے14.8 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں جو کہ ایک ریکارڈ ہے ۔ اسی طرح رواں برس روپے کی قدر میں 2 فیصد اضافہ ہوا ہے جو کہ ملکی معیشت کےلئے بہت بہتر ہے ۔ اسے آئی ایم ایف کے قرض پروگرام اور ترسیلات زر کی وجہ سے بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والی ابھرتی ہوئی مارکیٹوں کی کرنسیوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ رپورٹ کےمطابق وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے بھی امکان ظاہر کیا تھا کہ رواں برس ترسیلات زر کے ذریعے 35 ارب ڈالر کی آمد متوقع ہے۔ جولائی تا اکتوبر پاکستان کو 11 ارب 85 کروڑ ڈالر کی ترسیلات زر موصول ہوئیں جو اوسطاً 2 ارب 96 کروڑ 20 لاکھ ڈالر ماہانہ ہیں۔
لندن میں فچ سلوشنز کمپنی بی ایم آئی کے ماہر اقتصادیات جان ایشبورن نے بلومبرگ کو بتایا کہ ایسا لگتا ہے کہ کرنسی اصلاحات سے ترسیلات زر میں اضافہ ہوا اور قانونی طریقے سے زیادہ ترسیلات پاکستان بھیجی جارہی ہیں جو پاکستان کی معیشت کے لئے بہتر ہیں ایک اور اچھا شگون ہے کہ معیشت درست سمت میں آگے بڑھ رہی ہے ۔ دوسری جانب سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق بظاہر عمران خان دو مرتبہ ترسیلات زر رکوانے کی کال دینے کا ارادہ ظاہر کر چکے ہیں مگر صورتحال الٹ دکھائی دے رہی ہے ۔ واضح رہے کہ عمران خان نے اپنے وکیل فیصل چودھری اور بہن علیمہ خان سے جیل میں ملاقات کے دوران دعویٰ کیا تھا کہ بیرون ملک میں مقیم پاکستانی ترسیلات زر نہیں بھیجنا چاہتے، پاکستانی تارکین عمران خان کے کہنے پر ملک میں پیسہ بھیجنا بند کر دیں گے ۔
