خاص خبریںعالمی خبریں

ایران پرحملوں سے متعلق امریکی قیادت میں اختلافات، جے ڈی وینس اورعسکری حکام کے خدشات سامنےآگئے

یہ خدشات ایسے وقت میں سامنے آئے جب صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران کے خلاف مزید فوجی کارروائیوں پر غور کر رہے تھے 

امریکی نائب صدر جے ڈی وینس اور چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف جنرل ڈین کین نے ایران کے خلاف جنگ کو مزید وسعت دینے کے ممکنہ نتائج پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔

امریکی میڈیا کے مطابق یہ خدشات ایسے وقت میں سامنے آئے جب صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران کے خلاف مزید فوجی کارروائیوں پر غور کر رہے تھے۔ 

Flora& Fauna

امریکی نشریاتی ادارے سی این این کی رپورٹ کے مطابق جمعے کو ہونے والے اعلیٰ سطح کے اجلاس میں جنرل ڈین کین نے صدر ٹرمپ کو بریفنگ دیتے ہوئے ممکنہ فوجی کارروائیوں کے نتائج اور خطرات سے آگاہ کیا۔

رپورٹ کے مطابق جنرل ڈین کین نے خاص طور پر امریکی اسلحے کے ذخائر، طویل جنگ کے ممکنہ اثرات اور دیگر عسکری چیلنجز پر تشویش ظاہر کی۔

انہوں نے کہا کہ امریکی فوج صدر کے احکامات پر عمل کرنے کی مکمل صلاحیت رکھتی ہے، تاہم ہر فوجی آپشن کے ممکنہ نتائج کو بھی مدنظر رکھنا ضروری ہے۔ 

ذرائع کے مطابق اسلحے کے ذخائر سے متعلق خدشات ان متعدد نکات میں شامل تھے جو اجلاس کے دوران صدر ٹرمپ کے سامنے پیش کیے گئے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ امریکا نے تقریباً دو ہفتوں تک جاری رہنے والے فضائی حملوں کے بعد فی الحال ایران پر بمباری کا سلسلہ روک دیا ہے، تاہم یہ واضح نہیں کہ یہ فیصلہ مستقل نوعیت کا ہے یا مستقبل میں دوبارہ حملے کیے جا سکتے ہیں۔

سی این این کے مطابق اگرچہ صدر ٹرمپ نے حالیہ دنوں میں ایران کے خلاف مزید سخت فوجی کارروائی کا عندیہ دیا تھا، لیکن انہوں نے نجی طور پر اپنے مذاکرات کاروں کو ایران کے ساتھ سفارتی رابطے جاری رکھنے کی بھی ہدایت کی۔

متعدد ذرائع کا کہنا ہے کہ صدر ٹرمپ کے قریبی مشیروں اور پینٹاگون کے بعض حکام کو اس بات پر شبہ ہے کہ جنگ میں مزید شدت لانے سے مطلوبہ نتائج حاصل کیے جا سکیں گے۔

دفاعی اور سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق موجودہ صورتحال اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ واشنگٹن میں ایران کے خلاف آئندہ حکمت عملی پر مختلف آراء موجود ہیں، جبکہ فوجی اور سفارتی دونوں راستوں پر غور کیا جا رہا ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *