جادوگر ڈاکٹر — ڈاکٹر مظفر

تحریر( ہمایوں سلیم) زندگی میں بعض شخصیات ایسی ہوتی ہیں جنہیں دیکھ کر انسان بے اختیار داد دینے پر مجبور ہو جاتا ہے۔ ڈاکٹر مظفر بھی انہی لوگوں میں شامل ہیں۔ ان سے میری پہلی ملاقات میاں نوید صاحب کے ذریعے ہوئی تھی۔ بعد ازاں حاجی حنیف صاحب کی ایک تقریب میں دوبارہ ملاقات ہوئی۔ اسی موقع پر حاجی حنیف صاحب نے مسکراتے ہوئے کہا، “میں تو انہیں جادوگر ڈاکٹر کہتا ہوں۔ اور میں نے حاجی حنیف کی تائید کی کیونکہ مجھے ان کے علاج کا تجربہ تھا” اس وقت یہ جملہ میرے دل پر لگا، لیکن چند دن بعد اس کی حقیقت مجھ پر پوری طرح آشکار ہو گئی۔
کچھ عرصہ قبل میری کمر میں شدید درد شروع ہو گیا۔ تکلیف اس قدر بڑھ گئی کہ معمول کے کام بھی مشکل ہو گئے۔ میں نے ڈاکٹر مظفر سے رابطہ کیا تو انہوں نے رات ساڑھے نو بجے کا وقت دیا۔ مقررہ وقت پر میں ان کے کلینک پہنچا۔ انہوں نے نہایت توجہ، خندہ پیشانی اور مہارت کے ساتھ میرا معائنہ کیا اور صرف دس منٹ کے علاج کے بعد ایسا محسوس ہوا جیسے درد کہیں غائب ہو گیا ہو۔ مجھے یقین ہی نہیں آ رہا تھا کہ جس تکلیف نے کئی دنوں سے بے چین کر رکھا تھا، وہ اتنی جلدی ختم ہو سکتی ہے۔
اس رات بار بار حاجی حنیف صاحب کی بات یاد آتی رہی کہ واقعی ڈاکٹر مظفر کو “جادوگر ڈاکٹر” کہنا بے جا نہیں۔ البتہ یہ جادو کسی طلسم کا نہیں بلکہ برسوں کی محنت، وسیع تجربے، پیشہ ورانہ مہارت اور مریضوں کے ساتھ مخلصانہ رویے کا نتیجہ ہے۔
ڈاکٹر مظفر نہ صرف ایک بہترین معالج ہیں بلکہ ایک شفیق اور ہمدرد انسان بھی ہیں۔ ایسے ڈاکٹر معاشرے کا قیمتی سرمایہ ہوتے ہیں جو اپنے علم اور مہارت سے لوگوں کی تکالیف کم کرتے اور انہیں نئی امید دیتے ہیں۔ میری دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ڈاکٹر مظفر کو صحت، عزت اور مزید ۔کامیابیاں عطا فرمائے، ان کے ہاتھوں میں ہمیشہ شفا رکھے اور انہیں اسی جذبۂ خدمت کے ساتھ انسانیت کی خدمت کی توفیق عطا فرماتا رہے
