ایران پرحملہ مؤخرکرنے کے بعد ٹرمپ کا جنگی منصوبوں پر اجلاس،مختلف آپشنز پرغور
ایران پر حملہ مؤخر کرنے کے بعد امریکی صدر ٹرمپ ڈونلڈ ٹرمپ کی زیر صدارت جنگی منصوبوں پر اہم اجلاس ہوا ہے جس میں مختلف آپشنز پر غور کیا گیا۔

امریکی میڈیا کے مطابق ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس میں قومی سلامتی ٹیم کے ساتھ ہنگامی میٹنگ کی، اجلاس میں امریکی نائب صدر، وزیر خارجہ، وزیر دفاع اور دیگر فوجی حکام شریک ہوئے، اجلاس میں ایران جنگ کی صورتحال سے متعلق مختلف آپشنز پر غور کیا گیا۔
بعدازاں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے امریکی صدر نے کہا ہے کہ ایران کے حوالے سے مثبت پیشرفت ہوئی ہے، جس کے بعد ہم یہ جنگ تیزی سے ختم کر دیں گے، ایران کو کسی صورت ایٹمی ہتھیار رکھنے نہیں دیں گے، ایران کی نیوی، فضائیہ، فوج اور قیادت ختم کر دی گئی ہے۔
اس پہلے وائٹ ہاؤس بال روم کی تعمیری سائٹ کے دورے پر میڈیا سے گفتگو میں صدر ٹرمپ نے کہا تھا کہ اگر ایران کے پاس جوہری ہتھیار ہوا تو وہ سب سے پہلے اسرائیل کو نشانہ بنائیں گے، وہ اسرائیل کو تباہ کرنے میں دیر نہیں لگائیں گے، اس لیے ایران کو جوہری ہتھیار رکھنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی، وقت محدود ہے، ایران کو ایک بڑا دھچکا دینا ہوگا۔
ان کا کہنا تھا کہ شاید ایران پر دوبارہ حملہ کرنا پڑے، ایران پر 2 سے 3 روز، شاید جمعے یا ہفتے کو یا پھر اگلے ہفتے کے شروع میں حملہ کرسکتے ہیں۔
