اقبال کے شاہین، ناروے کی سرزمین پر
ڈاکٹر راجہ خرم اقبال کی کہانی محض ایک فرد کی کامیابی کی داستان نہیں، بلکہ یہ اُن والدین کی قربانیوں کا تسلسل ہے جو 1960 اور 70 کی دہائی میں پاکستان سے ناروے ہجرت کر کے آئے۔

تحریر:محمد زنیر (اوسلو، ناروے)
ناروے کی سرد فضاؤں میں جب کبھی پاکستان کی خوشبو محسوس ہوتی ہے تو یقین ہو جاتا ہے کہ محبتِ وطن کسی جغرافیے کی محتاج نہیں۔ یہ وہ جذبہ ہے جو نسلوں کے فاصلے، زبان کی رکاوٹوں اور ثقافتی تبدیلیوں کے باوجود دلوں میں زندہ رہتا ہے۔ انہی زندہ جذبوں کی ایکروشن مثال ڈاکٹر راجہ خرم اقبال ہیں۔ ایک ایسے پاکستانی نژاد نارویجن شہری، جو پیشے کے اعتبار سے جنرل فزیشن اور ذہن کے اعتبار سے ایک وژنری آئی ٹی انٹرپرینیور ہیں۔
ڈاکٹر راجہ خرم اقبال کی کہانی محض ایک فرد کی کامیابی کی داستان نہیں، بلکہ یہ اُن والدین کی قربانیوں کا تسلسل ہے جو 1960 اور 70 کی دہائی میں پاکستان سے ناروے ہجرت کر کے آئے۔ اجنبی سرزمین، سخت موسم، محدود وسائل مگر خواب بڑے تھے۔ انہی خوابوں کی تعبیر ان کی أولاد کی صورت میں سامنے آئی، جس نے ناروے میں آنکھ کھولی، وہیں تعلیم حاصل کی، اور اپنی محنت سے ایک نمایاں مقام بنایا۔ تاہم اس کامیابی کے پس منظر میں ان کا کے والد راجہ جاوید اقبال کا ایک کلیدی کردار رہا۔ انہوں نے نہ صرف محنت اور دیانت کی عملی مثال قائم کی بلکہ اپنی اولاد کی تربیت میں کردار، علم اور اپنی جڑوں سے وابستگی کو بنیادی حیثیت دی۔ یہی وہ بنیاد تھی جس پر ڈاکٹر خرم اقبال کی شخصیت نے نشوونما پائی جہاں جدید تعلیم کے ساتھ ساتھ تہذیبی شعور، قومی محبت اور خدمتِ خلق کا جذبہ بھی پروان چڑھا۔
لیکن اصل کہانی یہاں سے شروع ہوتی ہے۔ نارویجین معاشرے میں آنکھ کھولنے اور وہیں پروان چڑھنے والے اس نوجوان کی تعلیمی و سماجی بنیادیں اگرچہ اردو سے وابستہ نہیں تھیں، مگر اس کے باوجود اس نے اپنی فکری اور تہذیبی جڑوں سے ایسا گہرا اور شعوری تعلق قائم کیا جو کم ہی دیکھنے کو ملتا ہے۔ علامہ اقبال کی شاعری کو محض پڑھا نہیں بلکہ سمجھا، اس کے پیغامِ خودی کو اپنے کردار اور عمل کا حصہ بنایا، اور واصف علی واصف کے اقوال سے رہنمائی لیتے ہوئے اپنی زندگی کو ایک مقصد سے جوڑ دیا۔ یہ تعلق رسمی یا نمائشی نہیں بلکہ ایک شعوری وابستگی ہے، جو انسان کو اپنی پہچان کا ادراک بھی دیتی ہے اور اسے خدمتِ خلق کی راہ پر بھی گامزن کرتی ہے۔
یورپ میں پیدا ہونے پاکستانی نسل کے لیے اپنی تہذیبی اور فکری روایت سے جڑنا آسان نہیں ہوتا۔ اکثر نوجوان اپنی اصل تاریخ، اپنے مفکرین اور اپنے فکری ورثے سے دور ہو جاتے ہیں۔ لیکن ڈاکٹر خرم اقبال کا تعلق ایک ایسے خاندان سے ہے جس نے ہمیشہ اپنی اقدار، روایات اور ثقافت کو دیارِ غیر میں بھی زندہ رکھا۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی شخصیت میں اقبال کے تفکرِ خودی کی جھلک نمایاں نظر آتی ہے۔ ایک ایسا شعور جو انسان کو محض کامیابی نہیں بلکہ مقصدیت، خدمت اور اپنی پہچان کے ساتھ جینے کا درس دیتا ہے۔
اسلام آباد راولپنڈی ویلفیئر سوسائٹی میں بطور جنرل سیکرٹری اور مشاورتی بورڈ کے رکن، انہوں نے ایسے شاندار پروگرامز منعقد کیے جنہوں نے کمیونٹی کو ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا کیا۔ ثقافت، زبان، اور روایات کو زندہ رکھنے کی یہ کوششیں دراصل ایک خاموش مگر مؤثر جدوجہد ہیں۔
پیشہ ورانہ زندگی میں بھی ڈاکٹر خرم اقبال کسی سے پیچھے نہیں۔ ناروے کے مختلف شہروں میں ہسپتالوں کے ایمرجنسی وارڈز میں خدمات انجام دیتے ہوئے انہوں نے مریضوں کو طویل انتظارکرنے کا ایک اہم مسئلہ محسوس کیا جو کہ انتہائی تکلیف دے مسئلہ ہے۔ اس مسئلے کا حل انہوں نے صرف سوچا ہی نہیں بلکہ ایک موثرعملی قدم اٹھاتے ہوئے انہوں نے دارالحکومت اوسلو کو وسط میں ایک ایسا ایمرجنسی کلینک قائم کیا جہاں کم وقت میں، کم خرچ پر، اور زیادہ سہولت کے ساتھ مریضوں کو فوری طبی خدمات فراہم کی جاتی ہیں۔ یہاں تک کہ وہ ان بزرگ اور کمزور افراد کے گھروں تک بھی جاتے ہیں جو ہسپتال آنے کی استطاعت نہیں رکھتے۔
یہ وہ خدمت ہے جو پیشہ نہیں، مشن بن جاتی ہے۔
ڈاکٹر راجہ خرم اقبال دراصل ایک سوچ کا نام ہیں۔ وہ سوچ جو یہ سکھاتی ہے کہ انسان جہاں بھی رہے، اپنی پہچان کو زندہ رکھ سکتا ہے۔ وہ اس بات کا ثبوت ہیں کہ وطن کی مٹی صرف جغرافیائی حدود میں محدود نہیں، بلکہ وہ اولاد کے کردار میں بھی زرخیز رہتی ہے۔
آج ناروے کی سرزمین پر اگر کوئی “شاہین” اپنے پروں سے نئی بلندیوں کو چھو رہا ہے، تو وہ ڈاکٹر خرم اقبال جیسے لوگ ہیں۔ جو علم میں بھی آگے ہیں، خدمت میں بھی، اور محبتِ وطن میں بھی اور یہی وہ لوگ ہیں جن کے بارے میں اقبال نے شاید کہا تھا۔
پرواز ہے دونوں کی اسی ایک فضا میں”
“کرگس کا جہاں اور ہے، شاہیں کا جہاں اورِ
اور واقعی، ناروے کی فضا میں بھی ایسے شاہین موجود ہیں، جو نہ صرف بلند اڑتے ہیں بلکہ اپنی جڑوں سے جڑے رہتے ہیں
