ٹرمپ کا ایران کے خلاف جنگ جاری رکھنے کا اعلان، اب شدت سے حملے کیے جائیں گے، تہران کو وارننگ
آپریشن اپنے اہم مراحل طے کر چکا ہے اور اب اسے منطقی انجام تک پہنچایا جائے گا، امریکی صدر

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے آئندہ دو سے تین ہفتوں میں ایران پر مزید شدید حملے کرنے کا اعلان کردیا۔
امریکی صدر نے عوام سے خطاب میں ایران جنگ جاری رکھنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ بہت جلد تمام فوجی مقاصد حاصل کرلیے جائیں گے۔
صدر ٹرمپ نے کہا کہ ایران کے خلاف آپریشن شروع کیے ہوئے ایک مہینہ ہوگیا، چار ہفتوں میں امریکی فوج نے فیصلہ کن حملےکیے ہیں، ہم نے ایران کی نیوی، ائیرفورس کو مکمل تباہ کردیا ، انکے کئی لیڈر ختم ہوچکے، رجیم ختم ہوچکا، ایران کے ایٹم بم بنانے کی صلاحیت بھی ختم کردی۔
امریکی صدر نے کہا کہ ایران جنگ کا مشکل حصہ مکمل ہوچکا، اب ایران خطرہ نہیں رہا، ایران جنگ کے اسٹریٹجک مقاصد تکمیل کے قریب ہیں، مقاصد کی مکمل تکمیل تک جنگ جاری رہے گی، اپنا مشن مکمل کریں گے۔
صدر ٹرمپ نے ایران کی تیل تنصیبات کو نشانہ بنانے کا بھی اشارہ دیا اور دھمکی دی کہ ایران کو پتھر کے زمانے میں پہنچا دیں گے۔
امریکی صدر نے ایران جنگ میں 13 امریکی فوجیوں کی ہلاکت کی تصدیق کی، ایرانی حکومت پر 45 ہزار مظاہرین کو قتل کرنے کا الزام بھی لگایا تاہم انہوں نے کوئی شواہد پیش نہیں کیے۔
صدر ٹرمپ بولے ایرانی حکومت امریکا مردہ باد، اسرائیل مردہ باد کے نعرے لگاتی رہی ہے، 47 سال سے یہ صورتحال قائم تھی۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ہمیں آبنائے ہرمز کی ضرورت نہیں ہے، امریکا آبنائے ہرمز سے نہ تو تیل لیتا ہے، نہ لے گا، جن ممالک کے پاس تیل نہیں، وہ امریکا سے حاصل کرلیں، جو ممالک تیل حاصل نہیں کرسکتے، انہیں آبنائے ہرمز سے تیل خود لینا ہوگا، تنازع ختم ہو گا تو آبنائے ہر مز قدرتی طور پر کھل جائے گی۔
امریکی صدر نے خطاب کے دوران اسرائیل، سعودی عرب، قطر، یواےای،کویت اور بحرین کو عظیم ممالک قرار دیا اور کہا کہ ہم ان ممالک کو نقصان پہنچنے اور کسی بھی شکل میں ناکام نہیں ہونے دیں گے ۔
تیل کی قیمتوں سے متعلق بات کرتے ہوئے صدر ٹرمپ کا کہنا تھا بہت سے ممالک تیل قیمتوں میں اضافے پرپریشان تھے اور یہ اضافہ ایران کے ہمسائیہ ممالک پر حملوں کی وجہ سے ہوا لیکن ہمیں وینزویلا کے بعد مشرق وسطیٰ کے تیل کی اب ضرورت نہیں رہی کیونکہ امریکا اب آئل اور گیس کا نمبر ون پروڈیوسر ہے۔
صدر ٹرمپ نے خطاب کے دوران آرٹیمس مشن روانہ کرنے پر ناسا کو مبارکباد دی اور اس امید کا اظہار کیا کہ خلا نورد مشن کامیابی سے مکمل کرکے واپس پہنچیں گے۔
