متحدہ قومی موومنٹ کا سیاسی جماعتوں سے 28 ویں ترمیم لانے کا مطالبہ
متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم ) نے سیاسی جماعتوں سے 28 ویں ترمیم فوری لانے کا مطالبہ کردیا۔

چیرمین ایم کیو ایم پاکستان خالد مقبول صدیقی نے مصطفیٰ کمال، امین الحق، انیس قائم خانی کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے کہ جس جنگ کا پچھلے تیس چالیس سال سے کہا جارہا تھا وہ جنگ ہمارے دروازے پر پہنچ چکی ہے، جنگ کے خاتمے کے لیے پاکستان کی حکومت اور پاک افواج نے نمایاں کردار ادا کیا ہے۔
خالد مقبول صدیقی کا کہنا تھا کہ پاکستان ثالثی اور مذاکرات کے جس عزم کا اظہار کر رہا ہے ہم ان کے ساتھ ہیں، سرحدوں کی حفاظت کرنے کے لیے پاک افواج دفاع کر سکتی ہیں، قوموں پر مسلط جنگ فوج نہیں پوری قوم لڑتی ہے، جنگ زدہ علاقوں میں دیکھا ہے ایسے حالات میں اقتدار کو عوام کی جانب منتقل کر دیا جاتا ہے۔
انہوں نے کہا ہے کہ صرف ووٹ لینے والوں کا نہیں ووٹ دینے والوں کا بھی حق ہوتا ہے، پاکستان میں موروثی سیاست اور خاندانی اقتدار اس بات کی ضرورت محسوس نہیں کرتا، ہم منتظر تھے اٹھائیسویں ترمیم میں پاکستان کی عوام کو خوشخبری دی جاتی اقتدار میں بھی آپ کا حصہ ہے۔
ایم کیو ایم کے رہنما کا کہنا تھا کہ پورے پاکستان میں ہمارا ایک چیئرمین اور ایک کونسلر نہیں ہے، جنگ سرحد پار کر کے ملک میں داخل ہوتی ہے تو پہلے سے انتظام رکھنا چاہئے۔
انہوں نے کہا ہے کہ معاشی بحران سے متعلق اقدامات اٹھائے جا رہے ہیں، لاک ڈاؤن کی باتیں ہو رہی ہیں شہریوں کو فیصلہ کرنے کا اختیار دیا جائے کیا اقدامات ہونے چاہئیں۔
وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ ہم اپنے حصے کا اختیار عوام کو دینا چاہتے ہیں، ایک مختصر سی اقلیت جاگیر دارانہ مزاج کی وجہ سے اختیارات کی منتقلی کو روکا جا رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ میں وزیر اعظم صاحب سے مخاطب ہوں ایم کیو ایم کی قیادت بیٹھی ہے، وزیر اعظم صاحب سے کہتا ہوں ہم نے آپ کا ساتھ دینے کے لیے ایک مطالبہ رکھا تھا جب ایک کونسلر نہیں تھا ہمارے پاس، جبکہ پاکستان کا آئین پاکستان کے عوام کے تحفظ کے لیے بنایا گیا ہے۔
