وہ کونسا بالر تھا جس نے لگاتار 21 میڈن اوور کرکے عالمی ریکارڈ بنایا ؟

کرکٹ کی دلچسپ ہسٹری میں آئے روز نئے ریکارڈ بنتے اور ٹوٹتے رہتے ہیں ، اسی حوالے سےجب بھی کرکٹ کی تاریخ کے سب سے زیادہ کنجوس بالر کی بات کی جاتی ہے تو بھارت کے باپو ناڈکرنی کا نام سب سے پہلے آتا ہے۔ 12 جنوری 1964 کو مدراس ( چنئی) میں انگلینڈ کے خلاف ٹیسٹ میچ میں انہوں نے ایک ایسا ریکارڈ قائم کیا جو آج بھی ٹوٹا نہیں ہے۔ ناڈکرنی نے لگاتار 21 میڈن اوور میڈین پھینکے کا عالمی ریکارڈ بنایا تھا۔ یعنی انگلش بلے باز لگاتار 131 گیندوں پر ایک بھی رن بنانے میں ناکام رہے تھے۔
بھارت کی بڑی اردو نیوز ویب رپورٹ کے مطابق کرکٹ ایک ایسا کھیل ہے جہاں اکثر ریکارڈ بنتے اور ٹوٹتے رہتے ہیں۔ کبھی بلے باز گیند بازوں پر حاوی ہو جاتا ہے اور کبھی گیند باز بلے بازوں پر حاوی ہو جاتا ہے۔ لیکن بھارتی کرکٹ کی تاریخ میں ایک ایسا نام ہے جس نے رنز نہ دینے کا ایسا ریکارڈ قائم کیا جس نے دنیا کو دنگ کر دیا۔ وہ نام ہے رمیش چندر گنگارام ناڈکرنی، جسے کرکٹ کی دنیا “ باپو ناڈکرنی” کے نام سے جانتی ہے۔ 12 جنوری 1964 کو مدراس (اب چنئی) میں کارپوریشن اسٹیڈیم گنجائش سے بھرا ہوا تھا۔ بھارت اور انگلینڈ کے درمیان ٹیسٹ سیریز کا پہلا میچ کھیلا جا رہا تھا ۔ انگلینڈ پہلی اننگز میں بیٹنگ کر رہا تھا اور بھارتی کپتان منصور علی خان پٹودی نے گیند باپو ناڈکرنی کے حوالے کر دی۔ ناڈکرنی بائیں ہاتھ کی اسپن باؤلنگ اور درست لائن اور لینتھ کے لیے مشہور تھے۔
بھارت اور انگلینڈ کے درمیان ٹیسٹ سیریز کے پہلے میچ کے پہلے دن میدان میں کچھ ایسا ہونے والا تھا، جو نہ پہلے کبھی نہیں ہوا تھا ، نہ ہی اس کے بعد سے اب تک ہوا ہے ۔ باپو ناڈکرنی نے بولنگ شروع کی، اور پھر میڈن اوورز کا ایک نہ ختم ہونے والا سلسلہ شروع ہوا جس نے انگلش بلے بازوں کے صبر کا امتحان لیا۔ ناڈکرنی نے ایک کے بعد ایک میڈن اوور کرنا شروع کیا۔ انگلینڈ کے بلے باز برائن کین اور کین بیرنگٹن کریز پر موجود تھے، لیکن ناڈکرنی کی گیندبازی کے سامنے ان کی ایک نہ چلی اور اوور کے بعد اوور میڈن ہوتے چلے گئے ۔ پانچ ۔ دس ۔ پندرہ ۔ بیس اوور نہیں بلکہ لگاتار 21 اوور۔ ان کا اکانومی ریٹ صرف 0.15 تھا۔
یہ کرکٹ کی تاریخ میں کسی کرشمے سے کم نہیں تھا۔ انہوں نے لگاتار 131 ڈاٹ گیندیں کیں۔ انگلش بلے باز ہر رن کے لیے بے چین تھے، لیکن ناڈکرنی کی لینتھ اتنی درست تھی کہ گیند کو چھونا بھی مشکل تھا، اسے مارنا تو چھوڑ ہی دیں۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ 32 اوورز کرنے کے باوجود انہیں ایک بھی وکٹ نہیں ملی۔ تاہم ان کی بولنگ نے انگلینڈ کے رن ریٹ کو ایسا بریک لگا دیا کہ پوری ٹیم دباؤ میں آگئی۔ انہوں نے اس اننگز میں کل 32 اوور کئے جن میں سے 27 میڈن تھے۔ انہوں نے اپنے پورے اسپیل میں صرف 5 رنز دیے۔ باپو ناڈکرنی نے بھارت کے لیے 41 ٹیسٹ میچ کھیلے اور 88 وکٹیں حاصل کیں۔ اس کے علاوہ، انہوں نے ایک سنچری اور 7 نصف سنچریوں کی بدولت 1,414 رنز بھی بنائے۔ ناڈکرنی نے 191 فرسٹ کلاس میچوں میں 500 وکٹیں حاصل کیں، جس میں 14 سنچریاں اور 46 نصف سنچریوں سمیت 8,880 رنز بنائے۔ 2020 میں ناڈکرنی کاانتقال ہوا ۔