Wednesday, February 4, 2026
سائنس اور ٹیکنالوجی

سائنسدان پہلی بار رئیل ٹائم میں پودوں کو سانس لیتے دیکھنے میں کامیاب

سائنسدانوں نے ایک حیرت انگیز کام کرتے ہوئے پودے کے ‘سانس’ لینے کے عمل کو رئیل ٹائم میں کیمرے کی آنکھ میں محفوظ کیا ہے۔

سائنسدانوں کافی عرصے سے جانتے ہیں کہ پودے اپنے پتوں کے ننھے مساموں یا سے ہوا کو اندر کھینچتے ہیں یا یوں کہہ لیں کہ سانس لیتے ہیں۔

یہ ایسی ننھی شریانوں جیسے مسام ہوتے ہیں جن سے کاربن ڈائی آکسائیڈ پتوں میں داخل ہوتی ہے جبکہ ہوا میں پانی کے بخارات خارج ہوتے ہیں۔

مگر اب تک اس عمل کا مشاہدہ نہیں کیا جاسکا تھا کیونکہ یہ بہت مشکل تھا۔

امریکا کی الینواس یونیورسٹی نے ایک ایسا طاقتور نیا سسٹم تیار کیا جس سے اس عمل کا مشاہدہ ممکن ہوگیا۔

ان سائیٹ نامی ٹول سے سائنسدانوں نے پتوں کی حرکت کا مشاہدہ کیا جبکہ یہ بھی دریافت کیا کہ کتنی گیس پتے فضا میں خارج کر رہے ہیں یا کھینچ رہے ہیں۔

یونانی زبان کا لفظ ہے جس کا مطلب منہ ہے اور یہ دنیا بھر میں زراعت کے لیے مرکزی کردار ادا کرتا ہے۔

جب اس کے مسام کھلتے ہیں تو پودے کاربن ڈائی آکسائیڈ جذب کرتے ہیں تاکہ ان کی نشوونما ہوسکے مگر اس عمل کے دوران پانی بھی ضائع ہوتا ہے۔

اس عمل کو سمجھنا فصلوں کو اگانے کے لیے ضروری ہوتا ہے تاکہ پانی کا کم استعمال ممکن ہوسکے۔

اس نئے سسٹم کے ذریعے 3 جدید ٹیکنالوجیز کو مدغم کر دیا گیا جن میں سے ایک لائیو کون فوکل مائیکرو اسکوپی، دوسری لیف گیس ایکسچینج اور تیسرا انوائرمنٹل کنٹرول ہے۔

ان ٹیکنالوجی کو مدغم کرنے سے سائنسدان براہ راست پودوں کے ‘سانس’ لینے کا مشاہدہ کرنے کے قابل ہوگئے۔

سائنسدانوں کے مطابق پودوں کے افعال کا جائزہ لینے سے فصلیں اگانے کے عمل کو بہتر بنایا جاسکے گا۔

یعنی اس عمل کی تفصیلات سے ایسے پودے لگانے میں مدد ملے گی جن کو پانی کی کم ضرورت ہوگی۔

اس تحقیق کے نتائج جرنل پلانٹ فزیولوجی میں شائع ہوئے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *