افغانستان میں کارروائی کرنی ہوئی تو واشگاف انداز میں کریں گے، طالبان تنہا رہ جائیں گے: خواجہ آصف
وزیر دفاع خواجہ آصف کا کہنا ہے کہ اگر ہم افغانستان میں کارروائی کریں گے تو واشگاف انداز میں کریں گے ، ہم کارروائی میں شہریوں کو نشانہ نہیں بناتے۔

وزیر دفاع کا کہنا تھا کہ ہمارے دوست چاہتے ہیں کہ خطے میں امن ہو جس سے انہیں بھی فائدہ ہوگا اور اس کے لیے وہ بہت جلد مداخلت کریں گے۔
ان کہنا تھا کہ افغان طالبان تنہا رہ جائیں گے جس کا نتیجہ ان کی تباہی کی صورت میں ہوگا ، دہشت گردی کی فیکٹری ختم ہوگی تو حلال روزی کمانے کے مواقع پیدا ہوں گے، طالبان ایک مفاد پرستوں کا گروہ ہے، ان کی باتوں کو سنجیدہ لینا اور ان پر اعتماد کرنا بے سود ہے، ہمیں افغان طالبان سے اچھائی کی کوئی اُمید نہیں ہے، اس سے بڑی کوئی حماقت نہیں ہوگی کہ ان پر اعتبار کیا جائے ۔
خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ ہماری فورسز انتہائی ڈسلپن ہیں، طالبان کا کوئی کوڈ آف کنڈکٹ نہیں، ہمیں طالبان سے اچھائی کی امید نہیں، دنیا کے کس مذہب و معاشرے میں ایسا ہوتا ہے کہ آپ کسی سرزمین پر رہے ہوں اور وہاں خونریزی کریں، آگ لگائیں، طالبان کونسی شریعت کو ماننے والے ہیں؟ یہ کس شریعت کی بات کرتے ہیں۔
وزیر دفاع نے مزید کہا کہ ہم چاہتے ہیں کہ خطے میں امن ہو، خطے میں امن ہوگا تو سب ہی اس کے بینیفشری ہوں گے،افغانستان کو تجارت کے لیے کوئی متبادل راستہ اختیار کرنا ہے تو ضرور کرے، افغانستان اگر بھارت کےساتھ تعلقات رکھنا چاہتاہے تو ضرور رکھے۔
